زکوۃ و نصاب زکوۃ

دوست کا دوست کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
25867
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دوست کا دوست کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم

جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اپنے دوست کو کچھ رقم قرض دی ہے اب اس پر زکوٰۃ واجب ہوگئی ہے، میرا دوست میری طرف سے اپنی خوشی سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے، کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائیگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کا دوست سائل کی اجازت سے اس کا وکیل بن کر ا س کی طرف سے مذکور رقم بطور زکوٰۃ کسی مستحق کو دیدے تو اس صورت میں شرعاً زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛ لأن المعتبر نية الآمر؛ لأنه المؤدي حقيقة، الخ (2/226)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہداللہ فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25867کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات