جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اپنے دوست کو کچھ رقم قرض دی ہے اب اس پر زکوٰۃ واجب ہوگئی ہے، میرا دوست میری طرف سے اپنی خوشی سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے، کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائیگی؟
اگر سائل کا دوست سائل کی اجازت سے اس کا وکیل بن کر ا س کی طرف سے مذکور رقم بطور زکوٰۃ کسی مستحق کو دیدے تو اس صورت میں شرعاً زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
کما فی البحر الرائق: إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛ لأن المعتبر نية الآمر؛ لأنه المؤدي حقيقة، الخ (2/226)۔