زکوۃ و نصاب زکوۃ

بہن اگر صاحب نصاب ہو تو بہنوئی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
25560
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بہن اگر صاحب نصاب ہو تو بہنوئی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری بہن جو کہ شادی شدہ ہے، اوران کے دو بچے ہیں، اس کا شوہر ایک نجی اسکول میں تدریس اور گاؤں کی ایک چھوٹی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے، تنخواہ معمولی ہے، اور گھر مسجد کی طرف سے ملا ہے رہنے کے لیے میری بہنوئی کی باقی کوئی جائیداد نہیں، میری بہن نے اپنی محنت سے سلائی کڑھائی کر کے تقریباً 80000 مکان یا پلاٹ کے لیے جمع کئے ہیں، کیا میں اپنی بہن کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ یا صرف میرا بہنوئی ہی مستحق زکوٰۃ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور سائل کی بہن چونکہ صاحب نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کی مالک)ہے، اس لیے سائل اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا ، البتہ سائل کا بہنوئی چونکہ صاحب نصاب نہیں ، اس لیے سائل کا اپنے بہنوئی کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة الخ (1/189)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وجاہت حسین عثمانی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25560کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات