سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بالغ مسلمان مرد کسی بالغ غیر مسلم لڑکی سے بغیر نکاح کے اس کے ساتھ اختلاط(ہمبستری) کا فعل کرے،اس کے نتیجے میں اس کے ہاں ایک بیٹی جنم لے،بیٹی کے جنم لینے کے بعد وہ مرد اپنی بیٹی کا باپ ہونے سے انکار کردے،جواب میں اس بیٹی کی ماں مقامی عدالت میں رجوع کرکے اور انکار کرنے والے مرد پر بیٹی کے باپ ہونے کا دعوی دائر کرے تو عدالت DNA اور دیگر میڈیکل ایگزامینیشن اور میڈیکل رپورٹ کے نتیجے میں اس فرد کو ہی بچی کا باپ قرار دیدے تو اس معصوم بیٹی کے باپ کی حیثیت شرعی اصولوں کے تحت کیا قرار پائے گی؟اور بغیر نکاح کے اختلاط کرکے بچی یا بچہ پیدا کرنے والے مرد پر شریعت کی کون سی حد عائد ہوگی؟اگر بغیر نکاح کے بچی پیدا کرنے والا فرد مسلمانوں کی قیادت کرنے کا بیڑا اٹھائے تو کیا اس کا یہ عمل شرعاً جائز ہوگا؟ اور کیا ایسے فرد کی بحیثیت لیڈر اطاعت شریعت کے مطابق جائز ہے؟
واضح ہوکہ زنا سے جو بچہ پیدا ہوجائے،اس کا نسب شرعاً زانی سے ثابت نہیں ہوتا،بلکہ وہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتاہے،اگرچہ DNA وغیرہ دیگر میڈیکل رپوٹوں کی روشنی میں اسی شخص کو ہی بچے کا باپ قرار دیا جائے،جبکہ مذکورفعل اگر مسلم ملک میں ہو اور اس میں اسلامی قانون نافذ العمل ہو اور بوقتِ ارتکاب زانی محصن یعنی شادی شدہ عاقل بالغ اور مسلمان ہو اور زنا عدالت کے سامنے اس کے اقرار یا چار گواہوں کی صحیح گواہی سے ثابت ہوجائے تو حاکمِ وقت اس پر رجم کی حد جاری کرے گا اور اگر محصن نہ ہو بلکہ غیر شادی شدہ ہو تو اس کی سزا سو کوڑے ہیں،جبکہ ایسا شخص گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے شرعاً فاسق ہے اور اس کو مسلمانوں کا لیڈر بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
کما فی الدر المختار: الزنا الموجب للحد(الیٰ قوله) ویرجم محصن فی فضاء حتیٰ یموت(الیٰ قوله) وغیر المحصن یجلد مائة ان حراً اھ(4/4)۔
وفی الفقه الاسلامی وأدلته: الولد ثابت من امه فی کل حالات الولادة شرعیة أو غیر
شرعیة أما نسب الولد من أبیه فلایثبت الا من طریق الزواج الصحیح أو الفاسد(الیٰ قوله) قال علیه السلام الولد للفراش وللعاھر الحجر اھ (10/72498)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0