زکوۃ کے متعلق بتائیں کہ میری والدہ نے میرے لیے زیور رکھا تھا، ان کی وفات ہو چکی ہے اور اب سارا زیور میرے پاس ہے والد کے پاس کچھ نہیں اور انہوں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ تو کیا مجھ پر زکوۃ دینا بنتی ہے جبکہ میں خود ابھی پڑھتا ہوں کماتا نہیں ؟
سائل کی والدہ نے مذکور زیوراگر سائل کو دے کر اس پر اس کو باضابطہ مالک و قابض نہیں بنایا تھا بلکہ اپنے ہی تحویل میں رکھا تھا تو اس صورت میں سائل اس زیور کا مالک نہیں بنا ،بلکہ یہ بدستور مرحومہ والدہ کی ملک ہونے کی وجہ سے اس کا ترکہ ہے جو دیگر ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص تقسیم ہو گا، جبکہ تقسیم سے قبل اس کی مالیت میں زکوۃ لازم نہیں، البتہ تقسیم کے بعد سائل کے حصہ میں جو سونا آئے وہ اگر دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر اگر بقدر نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ بھی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما في الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374) والله أعلم بالصواب