کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جنت میں ہم جس کسی سے چاہیں مل سکتے ہیں، یعنی جس سے ملنا چاہیں وہ مل سکتی ہے؟ مثلاً اس دنیا میں آپ ایک شخص کو پسند کرتے ہیں، لیکن اس سے شادی نہیں کر پائے کسی وجہ سے، کیا اس سے جنت میں ملاقات ہو سکتی ہے؟ میں اس شخص کو اس زندگی میں کیسے بھول جاؤں؟ کہ اس کا میری زندگی میں کوئی دخل نہ ہو۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر چاہت جنت میں بھی پیدا ہوگی، ہاں! اگر کسی جنتی کو جنت میں جانے کے بعد بھی اس کے رتبہ و مقام اور کسی چیز کی مناسب سے اس کی چاہت پیدا ہوگی، تو وہ چیز اُسے فوراً ضرور حاصل ہو جائےگی۔ لہٰذا ایک مسلمان مؤمن کا فرض یہ ہے کہ وہ دنیاوی زندگی میں ان احکام کی بجاآوری کی فکر کرے جو وقتاً فوقتاً موقع و محل کی مناسبت سے اس کی طرف متوجہ ہوتے رہتے ہیں۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن بريدة أن رجلا قال: يا رسول الله هل في الجنة من خيل؟ قال: «إن الله أدخلك الجنة فلا تشاء أن تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شئت إلا فعلت» وسأله رجل فقال: يارسول الله هل في الجنة من إبل؟ قال: فلم يقل له ما قال لصاحبه. فقال: «إن يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك» رواه الترمذي(3/ 1568) ـــــــــــــــــ والله أعلم بالصواب!
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0