میں نے ایک عورت سے جوانی میں وعدہ کیا تھا کہ میں تم سے شادی کروں گا، مگر اس کی دوسری جگہ شادی ہوگئی، اور اب دو بچے بھی ہیں، اور اس کا شوہر فوت ہوگیا ہے، میرے بھی دو بچے ہیں، میں نے بھی شادی کرلی تھی، اب ہم شادی کرنے لگے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ شادی کے بعد وہ میرے ساتھ جنت میں جائے گی یا پہلے شوہر کیساتھ؟
سائل کو چاہیئے کہ پہلے اپنی آخرت کی فکر کرے، اور ایسے اعمال کرے، جن کی بناء پر وہ جنت کا مستحق بن جائے، اس لئے کہ کوئی شخص اگر خود جنت کا مستحق نہ ہو تو اس قسم کے سوال کرنا بے سود ہے، جہاں تک مسئلہ شرعیہ کا تعلق ہے تو جس عورت نے دو شادیاں کی ہوں وہ ایک قول کے مطابق جنت میں آخری شوہر کے ساتھ ہوگی، جبکہ بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ دونوں شوہروں میں سے جو سب سے زیادہ حسن اخلاق کامالک ہوگا اسی کے ساتھ یہ عورت جنت میں ہوگی۔
کما فی البدایۃ والنھایۃ ط ھجر: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ لِآخِرِ أَزْوَاجِهَا فِي الدُّنْيَا. وَجَاءَ أَنُّهَا تَكُونُ لِأَحْسَنِهِمْ خُلُقًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّجَّادُ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ; «أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ يَكُونُ لَهَا الزَّوْجَانِ فِي الدُّنْيَا فَأَيُّهُمَا يَكُونُ فِي الْآخِرَةِ؟ فَقَالَ: " لِأَحْسَنِهِمَا خُلُقًا، كَانَ مَعَهَا فِي الدُّنْيَا ". ثُمَّ قَالَ: " يَا أُمَّ حَبِيبَةَ، ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ". وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نَحْوُ هَذَا.وَاللَّهُ أَعْلَمُ. (ج20 صـ444 ۔ الناشر: دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان)۔
واللہ اعلم بالصواب
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0