مفتی صاحب! میری والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، میں ان کی قبر پر جاتا ہوں اور فاتحہ پڑھتا ہوں ۔
(1)۔ مجھے آپ یہ بتائیں کہ جب میں قبر پہ جاتا ہوں، کیا انہیں پتا لگتا ہے کہ ان کا بیٹا آیا ہے ؟
(2)۔ روح وہاں قبر میں موجود ہوتی ہے؟
(3)۔ والدہ کا انتقال 19رمضان میں ہوا، میں نے سنا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں فوت ہونے پر حساب نہیں ہوتا اور جنت میں چلاجاتا ہے جو فوت ہوتا ہے ۔
جی ہاں !روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب قبرکو پتہ چلتاہے اور قبر سے روح کا تعلق ہوتا ہے، اگر چہ وہ علیین یا سجین میں ہو، جبکہ جنت کا داخلہ قیامت قائم ہونے کے بعد ہوگا ۔
کما فی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: قالابن القيم الأحاديث والآثار تدل على أن الزائر متى جاء علم به المزور وسمع سلامه وأنس به ورد عليه وهذ عام في حق الشهداء وغيرهم وأنه لا توقيت في ذلك قال وهو أصح من أثر الضحاك الدال على التوقيت- (1 / 411)
وفی شرح الأشباہ ونظائر: قولہ ویأمن المیت فیہ من عذاب القبر، اقول: قال اہل السنۃ والجماعۃ عذاب القبر حق وسؤال منکر ونکیر وضغطۃ القبر حق سواء کان مومنا أو کافراً مطیعا أو فسقا (إلی قولہ) فکذلک فی القبر یرفع عنہم العذاب یوم الجمعۃ وکل رمضان بحرمتہ فیعذب اللحم متصلا بالروح والروح متصلا بالجسم تتألم الروح مع الجسد وإن کان خارجا منہ الخ (۳/۲۰۰)۔
کما فی مرقاة المفاتيح: وأخرج ابن عبد البر في الاستذكار والتمهيد عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " «ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام» "، صححه عبد الحق، وأخرج ابن أبي الدنيا والبيهقي في الشعب عن أبي هريرة قال: «إذا مر الرجل بقبر يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام وعرفه، وإذا مر بقبر لا يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام، أي ولم يعرفه» . (4/ 1259)۔ واللہ أعلم بالصواب!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0