زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا بیٹے کےلئے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
199
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا بیٹے کےلئے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

محترم جناب مفتی صاحب !میں نے اپنے بیٹے کے لئے ایک پلاٹ خریدا ، اس پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر پلاٹ خرید تے وقت سائل کی نیت بیٹے کے فائدہ کے لیے رکھنے کی تھی تو اس پلاٹ کی مالیت پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں، لہذا اب اگر ان پلاٹوں کے علاوہ اموال زکوۃ میں سے سائل کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو اس پر کوئی زکوة لازم نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و في التاتارخانیة : ليس في اليواقيت والعقار والثياب زكاة الا أن تكون للتجارة اھ (ص: ٢٣٥)
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: من شرائط الزكاة كون الحال ما تجب فيه الزكاة (إلی قوله) فلا زكاة في الجواهر واللآلئ والمعادن غير الذهب والفضة، ولا في الأمتعة وأصول الأملاك والعقارات اھ(3/ 1799) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 199کی تصدیق کریں
0     112
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات