میں رہائش کے لیے ایک گھر خرید رہا ہوں ، میرا اس گھر کے مالک سے یہ معاہدہ ہوا ہے کہ پانچ لاکھ روپے کی پیشگی ادائیگی کرونگا، اور مزید پچیس لاکھ روپے میرے ذمے واجب الاداء ہے، جو کہ تین مہینے کے بعد ادا کرنے ہیں، کیا ہمیں 25 لاکھ روپے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی؟
مکان کا قرض ادا کرنےسے قبل اگر زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت آجائے تو مذکور قرضہ منہا کرنے کے بعد بقیہ مال پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا، الخ (2/6)۔
و فی الھندیة: (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل الخ (1/172)۔