فقہ کے مختلف عقائد ہیں ۔کیا ایک بندہ نےاپنے معاملات میں مختلف امام کے تابعداری کر سکتاہے ؟(مثال کے طور پر میں سنی ہونے کے باوجود بلند آواز میں ''آمین '' کہدوں تو گناہ گار ٹہراؤں گا ؟
واضح ہو کہ ائمہ مذاہب کا اختلاف عقائد ونظریا ت میں نہیں، بلکہ بعض فروعی عملی مسائل میں ہے ۔جبکہ ان میں سے کسی ایک کی اتباع وتقلید سہولت کے ساتھ دین پر عمل کرنے کیلیے ہے، نہ کہ خواہش نفس کیلیے ،لہٰذا جو شخص جس امام کا پیروکا ر ہے اس کو تمام مسائل میں اس کی اتباع لازم او ر ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے مطابق ایک مسئلہ میں ایک امام کی اتباع کرے اور دوسرے میں دوسرے امام کی تو یہ تلفیق اور خواہش پرستی ہے۔جس کے نا جائز ہونے میں شبہ نہیں ۔اس لیے اس سے احتراز لازم ہے ۔
فی المجموع شرح المھزب قا ل العلامۃ النووی رحمہ اللہ: ووجھہ أنہ لو جاز اتباع أی مذھب شاء الأفضیٰ إلی أن یلتقط رخص المذاھب متبعا ھواہ ویتخیر بین التحلیل والتحریم والوجوب والجواز وذلك أن یؤدی إلی إنحلال ربقۃ التکلیف بخلاف العصر الأول فإنہ لم تکن المذاھب الوافیۃ بأحکام الحوادث مھذبۃ و عرفت فعلی ھذا یلزم أن یجتھد فی اختیار مذھب یقلدہ علی التعین (ج1ص91)۔
و فی فتاوی ابن تیمیۃ رحمہ اللہ: أن من التزم مذھبا معینا ثم فعل خلافہ من غیر تقلید لعالم آخر أفتاہ ولا استدلال بدلیل یقتضی خلاف ذلك و من غیر عذر شرعی یبیح لہ فعلہ فانہ یکون متبعا لہواہ و عاملا بغیر اجتہاد ولاتقلید فاعلا لتحریم بغیر عذر شرعی و ھذا منکر (ج2ص240) ۔
وفی الدر المختار: وأن الحكم الملفق باطل بالإجماع، وأن الرجوع عن التقليد بعد العمل باطل اتفاقا، وهو المختار في المذهب اھ(1/ 75)
وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وأن الحكم الملفق) المراد بالحكم الحكم الوضعي كالصحة. مثاله: متوضئ سال من بدنه دم ولمس امرأة ثم صلى فإن صحة هذه الصلاة ملفقة من مذهب الشافعي والحنفي والتلفيق باطل، فصحته منتفية. اهـ. (1/ 75)
و فیہ أیضا: تحت (قولہ قلنا الخ)لانك لو قطعت القول لما صح (الی قولہ ) قال ابن حجر: ثم رأيت المحقق ابن الهمام صرح بما يؤيده حيث قال في شرح الهداية: إن أخذ العامي بما يقع في قلبه أنه أصوب أولى، وعلى هذا استفتى مجتهدين فاختلفا عليه الأولى أن يأخذ بما يميل إليه قلبه منهما. وعندي أنه لو أخذ بقول الذي لا يميل إليه جاز؛ لأن ميله وعدمه سواء، والواجب عليه تقليد مجتهد وقد فعل. اهـ. (1/ 48) واللہ اعلم بالصواب!