حضرت میں پوچھنا چاہتاہوں کہ میں نےاکثر لوگوں کو صحابہ کرام کے نام کےساتھ’’ علیہ السلام‘‘ لگاتے ہوئے دیکھا ہے ۔اور اس کے بارے میں میں نے یہ سنا ہے کہ صحابہ کے نام کے ساتھ غلط ہے،کیونکہ یہ نبیوں کے لیے ہے۔اور اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کےساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لگا دیاجائے ۔تو یہ حضورﷺکے بعد آئے تھے ۔اور ان کو نبیوں والا درجہ دےکر ختمِ نبوت پر اور ایمان پر شک آجاتا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ سب ہوتا ہے ؟کیا واقعی ان صحابہ کے نام کے ساتھ’’ علیہ السلام‘‘ لگانے سے جو حضور ﷺکے بعد آئے ۔ختم نبوت پر ،ایمان پر شک آجاتاہے۔ اور اگر واقعی ایسا ہوتاہے تو حضرت امام مہدی کے نام ساتھ ''علیہ السلام ''کیوں لگاتے ہیں وہ بھی تو بعد میں آئینگے ۔
''علیہ السلام ''ایک دعائیہ کلمہ ہے جو عرف میں انبیاءکرام کیلیے مستعمل ہے اس لیے اس کو انہی کیساتھ مخصوص رکھنا چاہیے تاکہ پڑھنے اور سننے والے کو اشتباہ نہ ہو، تاہم اگر کسی نے غیرنبی کے لیے ا س کا استعمال کیا تو یہ شرعاًحرام اور ممنوع بھی نہیں اور نہ ہی اس سے اس کا نبی ہونا لازم آتا ہے ۔
وفی شرح فقه الاکبر : و من صلی علیٰ غیرھم إلا علٰی وجه التبعیة فھو غالٍ من الشیعة التی تسمیھا الروافض انتھی ومفھومه ان حکم السلام لیس کذلك ولعل وجھة أن السلام تحیة أھل الإسلام ولا فرق بین السلام علیه وعلیه السلام لا أن قول علیؓ علیه السلام من شعار البدعة فلایستحن فی مقام المرام (ص167)۔ واللہ اعلم بالصواب!