مفتی صاحب! مجھے یہ بتائیں کہ اگر عورت قبر پر جائے تو کیا وہ مردوں کو بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے؟
مردوں کو قبرستان جانے والی عورتوں کا بغیر کپڑوں کے نظر آنا بے اصل و بے بنیاد اور من گھڑت بات ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: ولو للنساء) وقيل: تحرم عليهن. والأصح أن الرخصة ثابتة لهن بحر، (إلی قوله) وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث «لعن الله زائرات القبور» وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز. ويكره إذا كن شواب اھ(2/ 242) والله أعلم بالصواب!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0