زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹیوں کے مستقبل لئے خریدے گئے پلاٹ میں زکوۃ کا حکم؟

فتوی نمبر :
15086
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹیوں کے مستقبل لئے خریدے گئے پلاٹ میں زکوۃ کا حکم؟

السلام علیکم
میں اپنی بیٹیوں کے لئے ایک پلاٹ خریدنا چاہ رہاہوں، جس کو وہ اپنے مستقبل کے لئے رکھیں گی ، وہ اس کا کیا کریں گی یہ ابھی تک متعین نہیں، اس پر گھر بنائیں گی یا اس کو بیچیں گی. تو کیا ایسے پلاٹ پر بھی ہر سال زکوٰۃ آئے گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنی بیٹیوں کے رہنے کی غرض سے جو مکان خریدے جائیں ان پر زکوٰۃ لازم نہیں، چاہے وہ پھر استعمال کریں یا نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها اھ (2/ 262)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15086کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات