السلام علیکم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ختنے کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں، اگر کسی نے ختنہ نہ کروایا ہو تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ میرے سوال کا مقصد یہ ہے کہ کوئی نیا مسلمان ہوا ہو اور اس نے ختنہ نہ کروایا ہو تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں، اللہ آپ کی زندگی میں برکت عطا فرمائے۔
ختنہ سنت مؤکدہ اور شعائر اسلام میں سے ہے، بغیر کسی عذر کے اس کا ترک کرنا جائز نہیں، لہٰذا نو مسلم پر بھی اسلام لانے کے بعد ختنہ کروانا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی نو مسلم اتنا ضعیف العمر ہو کہ ختنہ کرانے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور کوئی ماہر ڈاکٹر بھی اسے معذور قرار دے تو ایسی صورت میں ختنہ نہ کرانا بھی درست ہے۔
ففی الدر المختار: (و) الأصل أن (الختان سنة) كما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه (فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم) الإمام فلا يترك إلا لعذر وعذر شيخ لا يطيقه ظاهر اھ(6/ 751)
وفی الفتاوى الهندية: الشيخ الضعيف إذا أسلم ولا يطيق الختان إن قال أهل البصر لا يطيق يترك لأن ترك الواجب بالعذر جائز فترك السنة أولى كذا في الخلاصة. (5/ 357)
وفی مشکاة المصابیح: عن أبی ایوب قال قال رسول اللہ ﷺ اربع من سنن المرسلین، الحیاء ویروی الختان والتعطر، والسواك والنکاح، رواہ الترمذی۔ (ص:۴۴) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!