میں نے یہ معلوم کرنا ہے کہ قیامت میں لوگ اپنے باپ کے یا اپنے ماں کے نام سے پکارے جائیں گے؟ مفتی شامزئی شہیدؒ نے بہت پہلے ’’جنگ اخبار‘‘ میں باپ کے نام کے ساتھ لکھا تھا اور حدیث بھی سند کے ساتھ پیش کی تھی، آپ سے گزارش ہے کہ وہ حدیث کا حوالہ دیجیے گا۔
قیامت کے روز عام لوگ باپ کے نام کے ساتھ پکارے جائیں گے اور بعض لوگ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ ماں کے نام کے ساتھ بھی پکارے جائیں گے اور ان دونوں کے بارے احادیث مبارکہ موجود ہیں، ملاحظہ ہوں:
ففی السنن لابی داود: عن داود بن عمرو عن عبد اللہ بن ابی زکریا عن ابی الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم انکم تدعون یوم القیٰمة باسمائکم واسماء اٰبائکم فاحسنوا اسمائکم اه (ج2، ص328)
وفی روح المعانی: تحت (یوم ندعوا کل اناس بامامہم) وان الناس یدعون یوم القیٰمة بامہاتہم وان الحکمة فی الدعا بہن دون الاٰباء رعاية حق عیسٰی علیه السلام وشرف الحسن والحسین ولا یفضح اولاد الزنا اه (8/121) واللہ اعلم!