علامات قیامت

قیامت کی نشانیوں میں سے امام مہدی کا ذکر قرآن میں کہی نہیں

فتوی نمبر :
10825
| تاریخ :
2020-10-26
عقائد / قیامت و آخرت / علامات قیامت

قیامت کی نشانیوں میں سے امام مہدی کا ذکر قرآن میں کہی نہیں

السلام علیکم! آپ کی خدمت میں ایک سوال عرض ہے کہ ہم کچھ نوجوانوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ میرے ناقص علم کے مطابق حدیث شریف کو قرآن مجید سے مربوط کرتے ہیں، قیامت کی نشانیاں قرآن میں جگہ جگہ ہیں، لیکن امام مہدی کا ذکر قرآنِ مجید میں کہیں نہیں ہے، مہربانی فرماکر اس کا حوالہ دیں، اس سے ہماری اصلاح ہوسکے گی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآنِ کریم میں بہت ساری چیزوں، بلکہ فرائضِ شریعت کا تذکرہ ہے، مگر اس کی تفصیلات نہیں، وہ احادیثِ مبارکہ میں موجود ہیں، اسی طرح قیامت کا عقیدہ اور اسکی ضروری باتیں، قرآن میں مذکور ہیں، جبکہ تفصیلی نشانیاں اور علامات احادیثِ مبارکہ میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے ایک ظہورِ مہدی بھی ہے، جس کے بارے میں چند حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں، ملاحظہ ہوں:
في سنن ٲبي داؤد: عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المهدي مني، أجلى الجبهة، أقنى الأنف، يملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت جورا وظلما، يملك سبع سنين» اھ (۲/۲۴۰)۔
وفیه ٲیضا: عن أم سلمة، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «المهدي من عترتي، من ولد فاطمة» ۔الحدیث اھ (۲/۲۴۰)۔
وفیه ٲیضا: عن زر، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو لم يبق من الدنيا إلا يوم» - قال زائدة في حديثه: «لطول الله ذلك اليوم»، ثم اتفقوا - «حتى يبعث فيه رجلا مني» - أو «من أهل بيتي» - يواطئ اسمه اسمي، واسم أبيه اسم أبي اھ (۲/۲۳۹)۔
وفیه ٲیضا: عن علي، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو لم يبق من الدهر إلا يوم، لبعث الله رجلا من أهل بيتي، يملؤها عدلا كما ملئت جورا» اھ (۲/۲۳۹)۔
گویا کہ احادیثِ مبارکہ قرآن کی تفصیل وتشریح ہے، اس لیے کسی چیز کے قرآنِ کریم میں نہ پائے جانے اور احادیث مبارکہ میں موجودگی کی وجہ سے شک میں پڑنا اور معترض ہونا، ناواقفیت پر مبنی ہے، ورنہ قرآنِ کریم میں نماز کی رکعات، حج کے مناسک اور زکوٰۃ کی تفصیلات اور بہت سے جانور مثلاً ہاتھی، مکھی، مچھر وغیرہ کی حلت وحرمت کا بھی تذکرہ نہیں، اس کا بھی انکار لازم آئے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى ۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ۔(النجم:۳،۴)۔
وقال تعالی: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۔ الآية(النحل: ۴۴)۔
وقال تعالی: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۔ الآية (الحشر:۷)۔ واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10825کی تصدیق کریں
0     1999
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قیامت کی نشانیوں میں سے امام مہدی کا ذکر قرآن میں کہی نہیں

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
  • برزخ کسے کہتے ہیں؟

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
  • کیا امام مہدی کو ظاہر ہونے میں ایک دو سال باقی ہیں ؟

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
  • قرب قیامت میں سورج مغرب سے طلوع ہوگا، اس کی وضاحت ؟

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
  • دجال کب پیدا ہوگا ؟

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
  • دین اسلام کا زمین پر مزید کتنا وقت باقی ہے؟

    یونیکوڈ   علامات قیامت 0
Related Topics متعلقه موضوعات