میں سعودی عرب میں ملازمت کرتاہوں اور میں اہلِ سنت والجماعت سے تعلق رکھتاہوں۔ یہاں پر مجھے کئی لوگ ملے جو کہتے ہیں کہ میں غلط ہوں مثلاً دونوں ہاتھوں سے سلام کرنا، دونوں ہاتھوں کو ناف سے نیچے باندھ وغیرہ اور انہوں نے مجھے کئی کتابیں بھی دی ہیں میں پڑھنے کیلیے اور کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے تمہارے مفتی صاحب ایک بھی چیز غلط ثابت کردیں تو میں بھی اہلِ سنت والجماعت میں شامل ہوجاؤں گا۔ اور کہتے ہیں اسلام ایک ہے کوئی اہل حدیث یا حنفی یا شافعی نہیں ہے۔ اسلام میں سب برابر ہیں اور سب مسلم ہیں اور پوچھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں کون حنفی یا شافعی تھا، سب اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے۔ تو ہم لوگوں کو بھی اُن بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے، اگر اُن کی کوئی بات قرآن وحدیث کے خلاف ہو تو چھوڑ دینا چاہیے۔
واضح ہو کہ قرآن وسنت پر عمل کرنے کے سلسلہ میں ہی مشہور چاروں مسلک وجود میں آئے ہیں اور ان مسالک اربعہ سے گلو خلاصی اور بیزاری کی صورت خاص کر موجودہ دور میں دین کے نام پر خواہشاتِ نفسانیہ پر عمل کا دروازہ چوپٹ کھل جائے گا۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دین کی اصل دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے،یہاں تک کہ نبی کریمﷺ کی اطاعت بھی اس لیے واجب ہے کہ حضورﷺ نے اپنے قول وفعل سے احکامِ الٰہی کی ترجمانی فرمائی ہے کہ کونسی چیز حلال ہے اور کونسی چیز حرام اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے بجائے کسی اور کی اطاعت کرنے کا قائل ہو اور اس کو مستقل بالذات سمجھتاہو وہ یقیناً اسلام سے خارج ہے
لہٰذا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے کہ وہ قرآن وسنت کے احکام کی اطاعت کرے، لیکن قرآن وسنت کے بعض احکامت و ایسے ہیں کہ جنہیں ہر معمولی لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہے۔ اُن میں کوئی ابہام، اجمال یا تعارض نہیں ہے، بلکہ جو شخص بھی انہیں پڑھے وہ کسی اُلجھن کے بغیر ان کا مطلب سمجھ لے گا، جبکہ دوسری طرف قرآن وسنت کے بہت سے احکام وہ ہیں جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایا جاتاہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا آنحضرتﷺ کی کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔
اب جو دوسری قسم کے احکام ہیں اُن پر عمل کرنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم وبصیرت پر اعتماد کرکے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کرلیں اور اس پر عمل کریں اور دوسری صورت یہ ہے کہ از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ قرآن وسنت کے ان ارشادات سے ہمارے جلیل القدر اسلام نے کیا سمجھاہے۔
چنانچہ قرونِ اولیٰ کے جن بزرگوں کو ہم علوم قرآن وسنت کا زیادہ ماہر پائیں ان کی فہم وبصیرت پ عمل رکے اور انہوں نے جو کچھ سمجھاہے اس کے مطابق عمل کریں۔
اب عدل وانصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قرآن وسنت کے ایسے مختلف التعبیر پیچیدہ احکام میں ہم ان مطلابہ ومعانی کو اختیار کریں جو ہمارے اسلاف میں سے کسی عالم نے سمجھے ہوں، اگر ہم ایسا کریں تو اس کو کہاجاتاہے کہ ہم نے فلاں عالم کی ’’تقلید‘‘ کی ہے۔
ساری بات کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ آج کے دور میں فقہائے امت نے لوگوں کی طبائع کو دیکھتے ہوئے فرمایاہے کہ ہرشخص کیلئے ’’تقلید شخصی‘‘ کی پابندی لازی ضروری ہے، تاکہ نفس انسانی کو حلال وحرام کے مسائل میں شرارت کا موقع نہ مل سکے۔ لہٰذا نفس کی شرارت اور خواہشات نفسانیہ کے اتباع سے بچاؤ کیلیے امت کے ہر فرد پر لام وواجب ہے کہ وہ چار مشہور ائمہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ جن کے مذاہب مدوّن اور تحریری شکل میں موجود ہیں میں سے کسی امام کے مسلک اور پیروی کو لازم پکڑے اور سی میں فلاح وکامیابی کا راز مضمر ہے۔
اس کے ساتھ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ت’’قلید کی شرعی حیثیت‘‘ کا مطالعہ بھی سائل کے ذہنی خلجان کو دور کرنے میں مفید ومعاون ثابت ہوگا۔
ففي المجموع شرح المہذب: ووجهه أنه لو جاز اتباع أي مذهب شاء لا فضى إلى أن يلتقط رخص المذاهب متبعا هواه ويتخير بين التحليل والتحريم والوجوب والجواز وذلك يؤدي إلى انحلال ربقة التكليف بخلاف العصر الأول فإنه لم تكن المذاهب الوافية بأحكام الحوادث مهذبة وعرفت: فعلى هذا يلزمه أن يجتهد في اختيار مذهب يقلده على التعيين اھ (۱/۹۱)
وفی فیض القدیر: والغالب ان مثل هذہ الإلتزامات لکف الناس عن تتبع الرخص اھ (۱/۲۱۱)
وفي عقد الجید في ٲحکام الاجتہاد والتقلید: اعلم أن في الأخذ بهذه المذاهب الأربعة مصلحة عظيمة وفي الإعراض عنها كلها مفسدة كبيرة اھ (ص:۳۱)۔
وفي الفقیه والمتفقه: أما من يسوغ له التقليد فهو العامي: الذي لا يعرف طرق الأحكام الشرعية , فيجوز له أن يقلد عالما , ويعمل بقوله (ٳلی قوله) ولأنه ليس من أهل الاجتهاد فكان فرضه التقليد , كتقليد الأعمى في القبلة , فإنه لما لم يكن معه آلة الاجتهاد في القبلة , كان عليه تقليد البصير فيها اھ (ص:۶۸) ــــــ واللہ أعلم بالصواب!