مفتی صاحب! ’’جماعت المسلمین‘‘ کی اصلیت کیا ہے؟ وہ ہمارے قریب آرہے ہیں اور ہمیں سکھارہے ہیں کہ ہم جماعت المسلمین میں شامل ہوجائیں، براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ!
’’جماعت المسلمین‘‘ نام کی مذکور جماعت اجماعِ امت جیسے متفقہ اور مسلّمہ اصولِ شرعی کا انکار، تقلیدِ اولو الامر (فقہاء مجتہدین) کی پیروی کو جوکہ قرآن وسنت سے ثابت اور سلفِ صالحین سے متوارث ہے، شرک قرار دیتی ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے، لہٰذا نہ صرف یہ کہ خود جماعت المسلمین اہلسنت والجماعت سے خارج اور گمراہ، بلکہ مسلمہ اصولِ دین کے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ۔ (النساء:۱۱۵)۔
ترجمہ: اور جو کوئی مخالفت کرے رسول اللہ ﷺ کی جبکہ کھل چکی ہے اس پر سیدھی راہ اور وہ سب مسلمانوں کے راستے کے خلاف چلے تو ہم اس کے حوالہ کریں گے جو اس نے اختیار کی ہے اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں۔
وفي روح المعاني: فتفيد الآية أن مخالفة المؤمنين بعد دليل التوحيد والنبوة حرام، فيكون الإجماع مفيدا في الفروع بعد تبين الأصول، وأوضح القاضي وجه الاستدلال بها على حجية الإجماع وحرمة مخالفته بأنه تعالى رتب فيها الوعيد الشديد على المشاقة واتباع غير سبيل المؤمنين اھ (۳/۱۴۳)۔
ترجمہ: تو اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ توحید اور نبوت کی دلیل کے بعد مؤمنین کی مخالفت حرام ہے پس اجماعِ امت مفید ہوگا فروع میں اصول کے واضح ہونے کے بعد اور قاضی رحمہ اللہ نے اس آیت کے ذریعے حجتِ اجماع پر اور مخالفتِ اجماع کے حرام ہونے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مخالفتِ اجماع پر اور مسلمانوں کے راستے کے علاوہ کی اتباع پر سخت اور شدید وعید بیان فرمائی ہے۔
وفي نورالانوار: ٲن الاجماع في الامور الشرعية في الاصل یفید الیقین والقطعية، فیکفر جاحدہ اھ (ص:۲۲۵)۔
ترجمہ: بے شک اجماعِ امت امور ِشرعیہ میں یقین اور قطعیت کا فائدہ دیتاہے پس اس کا منکر کافر ہے۔
وفي الفتاوی الشامية: وقد صرح في التحریر في باب الاجماع بان منکر الاجماع القطعي یکفر اھ (۲/۵)۔
ترجمہ: اور کتاب تحریر کے باب الاجماع میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ اجماعِ قطعی کا منکر کافر ہے۔
وفي مشکاة المصابیح: وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك» رواه البخاري اھ (ص:۴۱۱)۔
ترجمہ: کسی دوسرے پر فسق اور کفر کی تہمت نہیں لگاتا مگر یہ کہ وہ اس پر لوٹ کر آتی ہے اگر وہ شخص ایسا نہ ہو۔
وفي الدر المختار: ھل یکفر ٳن اعتقد المسلم کافرا؟نعم اھ(۴/۶۹)۔
ترجمہ: کیا ایسا شخص کافر ہوجاتاہے جو کسی مسلمان کے بارے میں کفر کا عقیدہ رکھے؟ جی ہاں! (درمختار)
اس لیے مذکورہ بالا عقائد کی حامل جماعت کے بارے میں تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ باہم معاملات ومعاشرت اختیار کرنے اور ان کی مجالس میں شرکت کرنے سے احتراز کریں۔واللہ اعلم بالصواب!