کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عالمی مارکیٹ میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت پاکستان کے صرافہ بازار کے اعتبار سے کم ہوتی ہے مثال کے طور پر اگر عالمی مارکیٹ میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت چھ لاکھ پچیس ہزار دو سینتیس (625237)روپے ہو تو پاکستان کے صرافہ بازار کے حساب سے صاحب نصاب ہونے کی رقم آٹھ لاکھ پچاس ہزار پانچ سو (850500) روپے بنتی ہے ، سوال یہ ہے کہ ان دونوں قیمتوں کے تناظر میں کونسی قیمت کے اعتبار سے صاحب نصاب بنے گا ، اور کونسی قیمت کے اعتبار سے اس پر زکوۃ لازم ہوگی ؟
وا ضح ہو کہ فقہاء کرا م نے ادائیگی زکوۃ میں مالیت نصاب اس شہر کا معتبر قرار دیا ہے جس میں اموال زکوۃ موجود ہوں اور قیمت بھی ادائیگی زکوۃ کے دن کی معتبر ہوگی ، لہذا پاکستان میں موجود شخص ادائیگی زکوۃ کے وقت صاحب نصاب بننے کے لیے ساڑھے باون تولہ چاندی کی اس ریٹ کا اعتبار کریگا جو ادائیگی زکوۃ کے دن اسی شہر میں رائج ہو جہاں زکوۃ دینے والا شخص مال کے ساتھ موجود ہے ، اور اس میں عالمی قیمتوں کی اتار چڑاؤ کا کوئی عمل دخل نہ ہوگا ۔
كما في الدر المختار مع التنوير الأبصار: (وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح.
وفي رد المحتار تحت قوله(وهو الأصح) وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح ، فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها، اھ( باب زکوۃ الغنم، ج:٢، ص: ٢٨٦، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: وقيل يفتى في كل بلد بوزنهم وسنحققه في متفرقات البيوع (والمعتبر وزنهما أداء ووجوبا) لا قيمتهما.
وفي الهندية: وإن كان النقصان ذاتا بأن ابتلت يعتبر يوم الأداء عندهم كذا في الكافي ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبدا للتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع كذا في فتح القدير ناقلا عن الفتاوى.اھ(کتاب الزکوۃ، مسائل شتی، ج: ١، ص: ١٨٠، مط: ماجدية)