السلام علیکم! میرا ایک سوال ہے کہ: اسلامی منی مارکیٹ فنڈ میں جو رقم سرمایہ کاری کی گئی ہے، کیا اس رقم پر زکات واجب ہے؟ کیونکہ یہ رقم میرے قبضے میں نہیں ہے اور میں فوری طور پر اسے استعمال نہیں کر سکتا، اس کا استعمال کرنے کے لیے مجھے واپسی کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے اور اس کے مکمل ہونے میں تقریباً دو کاروباری دن لگتے ہیں، اور پھر یہ میرے قبضے میں آتی ہے۔ اس صورت میں ،میں اسلامی شریعت کے مطابق رہنمائی چاہتا ہوں کہ: مجھے کیا کرنا چاہیئے۔ جزاک اللہ خیر!
واضح ہو کہ وجوبِ زکاۃ کے لیے اموالِ زکاۃ کا کسی کے حسی قبضہ میں ہونا ضروری نہیں بلکہ اس میں اختیارِاور ملکیت کافی ہے، لہٰذا اسلامی منی مارکیٹ فنڈ میں سرمایہ کے طور پر لگائی گئی رقم اگر چہ فی الحال سائل کے قبضہ میں نہ ہو، لیکن سائل مالک ہونے کی حیثیت سے اس میں تصرف کر سکتا ہے اس لیے اس پر قمری سال گزرنے کی صورت میں بقیہ اموالِ زکاۃ کے ساتھ اس کی بھی زکاۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کمافي الهنديه:الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية اھ( الفصل الثاني في العروض،ج:١،ص:١٧٩،ط:ماجديه)
وفیہا ایضاََ: (ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية اھ(الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٥،ط:ماجديه)
وفي الفقه الاسلامي وادلته: يزكي رب المال (المالك) رأس المال وحصته من الربح، ويزكي العامل حصته من الربح، على النحو الآتي عند الفقهاء:قال أبو حنيفة: يزكي كل واحد من المالك والعامل بحسب حظه أو نصيبه،كل سنة، ولا يؤخر إلى المفاصلة، أي التصفية اھ( زكاة شركة المضاربة،ج:٣،ص:١٨٧٨،ط:دار الفكر)