کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :میرےپاس آٹھ لاکھ روپے نقد موجود ہیں، اور اس رقم پر ایک قمری سال سے زائد مدت گزر چکی ہے۔ تاہم مجھ پر تقریباً پندرہ لاکھ روپے کا قرض بھی واجب الادا ہے، جو دو سال سے میرے ذمہ ہے۔ ایسی صورت میں کیا مجھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
نیز ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کچھ جانور قربانی کے موقع پر فروخت کرنے کی نیت سے خریدے تھے، مگر وہ جانور صرف چھ ماہ تک میرے پاس رہے، پھر انہیں فروخت کردیا۔ تو ان جانوروں کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟
کیا ان کی زکوٰۃ کے لیے بھی سال گزرنا شرط ہے، یا سال مکمل ہونے کے وقت کل مالیت (نقد رقم اور دیگر اموالِ تجارت) کو جمع کرکے زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور جانور فروخت کرکے حاصل شدہ رقم اور پہلے سے مذکور شخص کے پاس موجود نقد رقم دونوں کے مجموعہ سے اگر قرض منہا کرنے کے بعدمذکور شخص کے پاس بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر) اموالِ زکاۃ (سونا،چاندی،مال تجارت اور نقدی) موجود نہ ہوں تواس پر شرعاً زکاۃ لازم نہ ہوگی۔
ففی الدر المختار: (و سببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد).( 2/ 259)۔
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» :
«(ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه) وقال الشافعي: تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام. ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة (وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة الأصلية، والمراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة، ودين الزكاة مانع حال بقاء النصاب لأنه ينتقص به النصاب۔(2/ 160)