زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ انفرادی مال پر واجب ہوتی ہے یا اجتماعی مال پر؟

فتوی نمبر :
90433
| تاریخ :
2025-12-31
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ انفرادی مال پر واجب ہوتی ہے یا اجتماعی مال پر؟

اگر ایک گھر میں تین عورتیں ہوں اور ہر ایک کا سونے کا مہر الگ الگ ہو، مثلاً ایک کے پاس پانچ تولے سونا ہو، دوسری کے پاس تین تولے سونا ہو،اور تیسری کے پاس دو تولے سونا ہو، تو اس صورت میں یہ معلوم کرنا ہے کہ زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ کیا زکوٰۃ مجموعی طور پر (یعنی سب کے سونے کو ملا کر) واجب ہوگی،یا انفرادی طور پر (یعنی ہر عورت کے سونے کو الگ الگ شمار کیا جائے گا)؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ وجوب زکوٰۃ میں ہر شخص کا اپنا ذاتی نصاب معتبر ہوتا ہے، دوسروں کے مال کو اس کے ساتھ ملا کر نصاب پورا نہیں کیا جاتا، چنانچہ اگر کوئی شخص ذاتی طور پر ساڑھے سات تولہ سونے کا مالک ہو تو وہ شرعاً صاحبِ نصاب شمار ہوگا، اور اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔سائل نے چونکہ سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی مذکورخواتین کے پاس موجودسوناان سب کی ذاتی ملکیت ہے یاگھرکے کسی ایک فرد سربراہ کی ملکیت ہے ،خواتین کے پاس اس کی موجودگی محض اعاریتاًہے،تاکہ اس کے مطابق وجوب زکوٰۃ یاعدم وجوب کاحتمی حکم بیان کیاجاسکتا،تاہم اگریہ سونامذکور تینوں خواتین کی انفرادی ملکیت ہوتواس صورت میں اس سونےکے مجموعے کو ملا کر نصاب مکمل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ادائیگی زکوٰۃ میں ہر ایک کی ملکیت الگ دیکھی جائے گی، اگر کسی کے پاس مذکور سونے کے ساتھ یگراموال زکوۃ( چاندی، مالِ تجارت اور نقدی )میں سے بھی کچھ موجود ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت ہونے کی صورت میں ان پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: فاما اذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا، فاذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال، لما روي في حديث عمرو بن حزم والذهب ما لم تبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه، فاذا بلغت قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر، وكان الدينار على عھد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم، (كتاب الزكاة، فصل: واما صفة نصاب الذهب، 18/2، ط: سعيد)-
و فیہ ایضا: واذا كان تقدير النصاب من اموال التجارة بقيمتھا من الذهب والفضة وهو ان تبلغ قيمتھا مقدار نصاب من الذهب والفضة، فلا بد من التقويم حتى يعرف مقدار النصاب، ثم بماذا تقوم؟ ذكر القدوري في شرحه مختصر الكرخي انه يقوم باولى القيمتين من الدراهم والدنانير حتى انھا اذا بلغت بالتقويم بالدراهم نصابا ولم تبلغ بالدنانير قومت بما تبلغ به النصاب. وكذا روي عن ابي حنيفة في الامالي انه يقومھا بانفع النقدين للفقراء. وعن ابي يوسف انه يقومھا بما اشتراها به، فان اشتراها بالدراهم قومت بالدراهم، وان اشتراها بالدنانير قومت بالدنانير، وان اشتراها بغيرهما من العروض او لم يكن اشتراها بان كان وهب له فقبله ينوي به التجارة قومت بالنقد الغالب في ذلك الموضع. وعند محمد يقومھا بالنقد الغالب على كل حال، وذكر في كتاب الزكاة انه يقومھا يوم حال الحول ان شاء بالدراهم وان شاء بالدنانير، (كتاب الزكاة، فصل: صفة الواجب في اموال التجارة، 21/2، ط: سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90433کی تصدیق کریں
0     245
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات