السلام علیکم ،محترم میرے پاس دو تولے سونا اور 80ہزار روپے نقدی ہے۔کیا زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے ساڑھے باون تولے چاندی کا نصاب مد نظر رکھا جائے گا یا ساڑھے سات تولے سونے کا؟
مختصر یہ کہ کیا جو مال میرے پاس ہے اس پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ اگر کسی کی ملکیت میں اموال زکوۃ (سونا ،چاندی، مال تجارت اور نقدی) میں سے صرف سونا موجود ہو، بقیہ تینوں چیزوں میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں وجو ب زکوۃ کے لیے ساڑھے سات تولہ سونا ضروری ہے، اس سے كم پر زکوۃ لازم نہیں، لیکن اگر سونے کے ساتھ بقیہ اموال زکوۃ میں سے کوئی ایک چیز بھی جمع ہو جائے تو پھر دونوں کی ملکیت کو ملاکر دیکھا جائے گا کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت کے برابر ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو زکوۃ لازم ہے، ور نہ نہیں، صورت مسئولہ میں مذکور دو تولہ سونا اور 80 ہزار کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر، بلکہ اس سے زائد ہے، لہذا سائل پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة. [(1/ 172)]
وفي بدائع الصنائع: فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا … (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله ﷺ بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة. ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد. ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال. (٢/١٩).