کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و مشائخ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مدرسہ کے مہتمم نے ایک مدرس کی دو ماہ کی تنخواہ نہیں دی مدرس چونکہ غریب آدمی تھا کسی سے قرض لے کر گھر وغیرہ کا خرچہ چلایا اب اس مدرس کو کسی نے زکوٰۃ کی رقم دی اور یہ کہا کہ اس رقم کو مدرسہ کے مصارف میں خرچ کرلینا اور وہ زکوٰۃ کی رقم اس مدرس کی دو ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے اب اس مدرس کا اس زکوٰۃ کی رقم کو بغیر بتائے مہتمم کے اپنے استعمال میں لانا درست ہے یا نہیں؟
مذکور طریقہ سے لی ہوئی رقم کا اپنی تنخواہ میں رکھ لینا شرعاً جائز نہیں بلکہ بدترین خیانت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الشامیة: وهنا الوكیل انّما یستفید التصرف من المؤكل وقد امره بالدفع الی فلان فلا یملك الدفع الٰی غیره كما لو اوصٰی لزیدٍ بكذا لیس للولی الدفع الی غیره فتأمل. اهـ (ج۲، ص۲۶۹) والله اعلم بالصواب