زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسے کے استاد كا زكوٰۃ کی رقم مہتمم کے علم میں لائے بغیر اپنے اوپر خرچ کرنا

فتوی نمبر :
71272
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسے کے استاد كا زكوٰۃ کی رقم مہتمم کے علم میں لائے بغیر اپنے اوپر خرچ کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و مشائخ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مدرسہ کے مہتمم نے ایک مدرس کی دو ماہ کی تنخواہ نہیں دی مدرس چونکہ غریب آدمی تھا کسی سے قرض لے کر گھر وغیرہ کا خرچہ چلایا اب اس مدرس کو کسی نے زکوٰۃ کی رقم دی اور یہ کہا کہ اس رقم کو مدرسہ کے مصارف میں خرچ کرلینا اور وہ زکوٰۃ کی رقم اس مدرس کی دو ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے اب اس مدرس کا اس زکوٰۃ کی رقم کو بغیر بتائے مہتمم کے اپنے استعمال میں لانا درست ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور طریقہ سے لی ہوئی رقم کا اپنی تنخواہ میں رکھ لینا شرعاً جائز نہیں بلکہ بدترین خیانت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة: وهنا الوكیل انّما یستفید التصرف من المؤكل وقد امره بالدفع الی فلان فلا یملك الدفع الٰی غیره كما لو اوصٰی لزیدٍ بكذا لیس للولی الدفع الی غیره فتأمل. اهـ (ج۲، ص۲۶۹) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سیف اللہ کاغانی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71272کی تصدیق کریں
0     692
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات