زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسے کے گیس اور بجلی بلوں میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا

فتوی نمبر :
71268
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسے کے گیس اور بجلی بلوں میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا

بعد سلام عرض ہے کہ ایک مدرسہ ہے جس کا گیس کا بل ۳۰۰۰ روپیہ آتا ہے اور دوسرے بل بھی آتے ہیں ان بلوں کی ادائیگی میں زکوٰۃ رقم دے سکتے ہیں ؟ اور مدرسہ میں کن جگہوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرسکتے ہیں اس کے بارے میں بتائیں۔
(۲) زکوٰۃ کی رقم سے جیل میں قیدیوں کو کھانا کمبل دوائیاں دے سکتے ہیں اس کے بارے میں جواب عنایت فرمائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ پر مستحقین کو بلا عوض مالکانہ قبضہ دینا ضروری ہے، اب اگر کوئی شخص قیدی کو کھانا پکاکر اور بوقتِ ضرورت دوائیاں خرید کر اسے مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دے تو اس طرح اس کے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات مدِّ زکوٰۃ سے پوری کرنابلاشبہ جائز اور درست ہے۔
البتہ مسجد و مدرسہ وغیرہ کے بلوں کی مدّ زکوٰۃ سے ادائیگی جائز نہیں، اس سے احتراز اور دیگر عطیات اور صدقاتِ نافلہ کی مد سے ادائیگی ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ویشترط ان یكون الصرف (تملیكا) لا اباحة كما مر. لا یصرف (الی بناء) نحو (مسجد و) لا الی (كفن میت وقضاء دینه. وفی الشامیة (قوله تملیكا) فلا یكفی فیها الاطعام الا بطریق التملیك ولو أطعمه عنده ناویا الزكاة لا تكفی. (ج۲، ص۳۴۴) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سہیل رفیق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71268کی تصدیق کریں
0     817
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات