زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے ڈسپنسری کھولنا

فتوی نمبر :
71212
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے ڈسپنسری کھولنا

میں زکوٰۃ کے پیسے سے ایک ڈسپنسری قائم کرنا چاہتا ہوں جس میں تمام علاج و معالجہ میسر ہوبمع ادویات , جبکہ علاج کروانے والوں سے صرف دو روپیہ فیس لی جائے گی جو کہ وہیں پر خرچ ہوگی , پورے مال زکوٰۃ کا خرچ اس میں استعمال کیا جائے گا۔
(۱) کیا میں زکوٰۃ کے پیسے سے ڈسپنسری قائم کرسکتا ہوں؟
(۲) کیا لوگوں کو بتائے بغیر کہ یہ زکوٰۃ کے پیسے سے علاج ہورہا ہے ایسا کرنے سے میری زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
(۳) کیا زکوٰۃ کے پیسے میں بمدِ تنخواہ و دیگر اخراجات اس ڈسپنسری کے لوگوں پر یعنی کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف پر خرچ کرسکتا ہوں اور اس طرح کرنے سے میری زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
(۴) دو روپے فیس صرف اس وجہ سے رکھی جارہی ہے تاکہ لوگوں کو دوائی کی قیمت کا احساس ہو اور وہ ضائع کرنے سے گریز کریں۔
برائے مہربانی تفصیلی جواب دیا جائے۔ والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کی رقم تعمیر، تنخواہ، اور ڈسپنسری کی شوکیسوں اور فرنیچر وغیرہ کی خریداری پر خرچ کرنا یا تھوڑا بہت معاوضہ لیکر زکوٰۃ کی مد سے دوائی دینا شرعاً جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے، ورنہ زکوٰہ ادا نہ ہوگی۔
البتہ کسی شخص سے متعلق اگر واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہونا معلوم ہو تو زکوٰۃ کی مد سے اسے دوائیاں فراہم کرنا اور ڈاکٹروں کی فیس وغیرہ کے چارجز کے اسے رقم دینا شرعاً جائز اور درست ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھندیة: فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعة من المملک من کل وجہ للہ تعالٰی. (ج۱، ص۱۷۰) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد منور صفدر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71212کی تصدیق کریں
0     751
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات