کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ (۱) ایک شخص نے مہتمم مدرسہ کو مبلغ چار ہزار روپے دیئے کہ تین بکرے میری طرف سے صدقہ کردیں، کیا یہ رقم بدون بکروں کے طلباء کی ضروریات کھانے لباس وغیرہ میں صرف کی جاسکتی ہے۔
(۲) زکوٰۃ کی رقم سے طلباء کی اشیاء صرف خریدی جاسکتی ہیں اس رقم میں سے مدرس صاحب کی تنخواہ دینے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح مہتمم مدرسہ کیلئے دینی کتب خریدنے کا زکوٰۃ کی رقم سے کیا حکم ہے؟
(۳) مدرسہ میں تقسیم اسناد کا پروگرام ہو یا تقریبا ختم القرآن ہو تو مدرسہ کی رقوم سے اس پروگرام میں طعام کے بندوبست پر رقم صرف کرنے کا کیا حکم ہے؟
(۱) اگر موکل کی طرف سے دلالۃً یا صراحۃً اس کا اذن موجود ہو تو قیمت بھی طلباء پر صرف کی جاسکتی ہے ورنہ نہیں۔
(۲) بلا تملیک زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی رقوم سے مدرسین یا دیگر ملازمین کی تنخواہ اور تقریبات وغیرہ کے انتظامات میں خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے جبکہ مد زکوٰہ سے خریدی جانے والی کتابیں اور دیگر اشیاء صرف وغیرہ مستحق طلباء کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینے سے بھی شرعاً زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔
وفی الدر المختار: لو خلط زکوٰة موکلیہ ضمن وکان متبرعًا وفی الرد: وکذالک المتولی اذا کان فی یدہ اوقافٌ مختلفةٌ وخلط غلاتھا ضمن (إلی قولہ) ویتصل بھذا العالم اذا سال للفقراء شیئًا وخلط یضمن وقلت ومقتضاہ انہ لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الاذن حینئذ دلالة والظاہر انہ لا بد من علم المالک بہذا العرف لیکون اذنًا منہ دلالةً. (ج۲، ص۲۶۹)
وفی الفتاویٰ الہندیة: ولو نوی الزکاة بما یدفع المعلم الی الخلیفة ولم یستاجرہ ان کان کان الخلیفة بحالٍ لو لم یدفعہ یعلم الصبیان ایضا اجزاہ والا فلا. اھـ (ج۱، ص۱۹۰) واللہ اعلم بالصواب