زکوۃ و نصاب زکوۃ

چوری شدہ رقوم کی واپسی زکوٰۃ سے کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
71162
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

چوری شدہ رقوم کی واپسی زکوٰۃ سے کرنا جائز ہے ؟

کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ بک اسٹال کے مالک نے ایک ملازم کو اسّی ۸۰ روپے مزدوری پر رکھا اور ملازم کتابوں کے فروخت کے وقت کچھ رقوم یعنی دو سو یا تین سو یا پانچ سو روپے مالک بک اسٹال سے بغیر بتائے چھپاکر ملازم کبھی کبھار اپنے جیب میں رقم ڈال دیتے تھے اور اب ملازم کو یہ معلوم ہوا کہ یہ سب رقوم چوری کے رقوم تھے جو ملازم نے خرچ کر ڈالا ہے اور اب ملازم نے اپنے دماغ سے سوچنے کے بعد اب یہ اندازہ لگایا کہ مالک کے کل رقوم کتنے تھے جو ملازم نے چھپاکر مالک بک اسٹال سے لیے تھے تو اندازہ لگانے سے پتہ چلا کہ کل رقوم کم از کم تیس ہزار۳۰۰۰۰ روپے تھے۔
اب اللہ تعالیٰ نے نے ملازم کو ہدایت دی تو ملازم یہ سب رقوم تیس ہزار ۳۰۰۰۰ روپے مالک بک اسٹال کو واپس لوٹنا چاہتا ہے اور اب مسئلہ یہ ہے کہ ملازم کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہے اور ملازم بے روزگار اور غریب ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ملازم زکوٰۃ کے رقوم یا چرم قربانی کے رقوم لیکر مالک بک اسٹال کو دے سکتا ہے یا نہیں؟ اور یہ ملازم زکوٰۃ اور چرم قربانی کے مستحق ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر مشکورو ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور رقم یکمشت لوٹانا ضروری نہیں اس لئے حسب استطاعت تھوڑا تھوڑا کرکے اس رقم کی ادائیگی کا اہتمام کرے، اور اگر وہ سید نہ ہو اور مالی لحاظ سے واقعۃ مستحق زکوٰۃ ہو تو مذکور مدّات میں سے بھی لے سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی بحر الرائق: ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمیٌّ ولا مولاہ بشرط قطع المنفعة من المملک من کل وجہ للہ تعالٰی. (ج۲، ص۲۰۱)
وفی الدر: (ویتصدق بجلالھا او یعمل منہ نحو غربال وجراب) قربة وسفرة ودلو (أو یبدّ لہ بما ینتفع بہ باقیًا او بدراھم تصدق بقیمتہ. (ج۶، ص۳۲۸)
وفی الشامیة: (قولہ ای مصرف الزکاة والشعر) وھو مصرف ایضًا لصدقہ القطر والکفارة والنذر وغیر ذلک من الصدقاتِ الواجبة. (ج۳، ص۳۳۹) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 71162کی تصدیق کریں
0     737
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات