زکوۃ و نصاب زکوۃ

قیدیوں کی رہائی اور ان کے اہل خانہ کی کفالت کے لیے زکوٰۃ دینا

فتوی نمبر :
71161
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قیدیوں کی رہائی اور ان کے اہل خانہ کی کفالت کے لیے زکوٰۃ دینا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل گزارشات کے سلسلہ میں کہ جیسا کہ اس وقت زمانے کے حالات آپ حضرات کے سامنے ہیں کہ دین اسلام کے خلاف پورا عالمِ کفر متحد ہوکر اس کو دبانے اور ختم کرنے کیلئے دن، رات سازشوں اور عملی کارروائیوں میں مصروف ہے ہمارے ایمان، اخلاق واعمال اور ہمارے اجسام پر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ، حملہ آور ہورہا ہے اور اس سے زیادہ دکھ درد کی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے بھی صرف ان کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ان سے بھی دو قدم آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ان حالات میں اگر کوئی غیرت مند مؤمن اٹھ کر کسی بھی پلیٹ فارم سے ان کفریہ طاقتوں نیز ان کے ایجنٹوں سے آنکھیں ملاکر اور ان کے سامنے ڈٹ کر مقابلے کیلئے میدان میں آتا ہے پھر وہ اپنوں ہی کے ہاتھوں گرفتار ہوکر پابند سلاسل ہوکر مختلف قسم کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا لیا جاتا ہے اور پھر سالوں سال مقدمے چلتے ہیں وکلاء کی بھاری بھر کم فیسوں کے علاوہ دیگر مختلف قسم کے اخراجات اُٹھاکر اُٹھاکر اولیاء ومتعلقین معاشی طور پر بالکل دیوالیہ ہوجاتے ہیں تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان مردانِ مجاہدین کی رہائی اور مقدمات کے سلسلہ میں نیز ان کے اقرباء متعلقین کی معاشی امداد میں زکوٰۃ، صدقات، صدقہ فطر اور دیگر صدقات واجبہ کی رقوم صرف کی جاسکتی ہیں؟ آیا یہ قیدیانِ اسلام مصرف زکوٰۃ و صدقات ہیں یا نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی خوش نصیب اس راستے میں شہید ہوجاتا ہے ان کے ورثاء کی زکوٰة، صدقاتِ واجبہ سے کفالت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ مدلل و مفصل جواب دیکر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر ایسے لوگ سید نہ ہوں اور ان کی ذاتی ملکیت میں اتنا مال نہ ہو جسکے ذریعہ رہائی حاصل کرسکیں اور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہوں تو ایسے اسیران اسلام مصرف زکوٰۃ و صدقات ہیں انہیں زکوٰۃ دینا اور اگر بچوں کی کوئی کفالت کرنے والا نہ ہو تو ان کے اہل و عیال کی معاونت بھی زکوٰۃ کی سے کی جاسکتی ہے،(بشرطیکہ وہ بھی مستحق زکوٰۃ ہوں).

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة: (او من دار الحرب) لان فقراء المسلمین الذین فی دار الاسلام افضل من فقراء دار الحرب بحر: قلت ینبغی استثناء أساری المسلمین اذا کان فی دفعھا اعانة علی فک رقابھم من الاسر. (ج۲، ص۳۵۴)
وفی الشامیة ایضًا: والاوجہ ان ینظر الی ما یقتضیہ الحال فی کل فقیر من عیال وحاجة اخرٰی کدھن وثوب وکراء منزل وغیر ذالک. اھـ (ج۲، ص۳۵۵) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سیف اللہ کاغانی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71161کی تصدیق کریں
0     622
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات