زکوۃ و نصاب زکوۃ

مکان فروخت کرکے اس کی رقم انویسٹ کرنے سے ، اس رقم پر زکوٰۃ ہوگی؟

فتوی نمبر :
71144
| تاریخ :
2024-02-24
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مکان فروخت کرکے اس کی رقم انویسٹ کرنے سے ، اس رقم پر زکوٰۃ ہوگی؟

میزان انویسمنٹ میں انویسمنٹ کی ہے، میزان اسلامک income funds and meezan solverin fund میں رقم جمع ہے، اس رقم پر نفع نقصان شامل کیا جاتا ہے، زکوۃ کا حساب ہر سال قمری سال پر لگانا ہوگا اس رقم پر یا ہمیں زکوۃ نہیں دینی؟ ہم نے مکان کو فروخت کرکے یہ رقم میزان بینک انویسمنٹ میں جمع کروائی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے گھر بیچ کر جو رقم مذکور ادارہ میں انویسٹ کی ہے،اگر وہ تنہا یا دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )کو پہنچتی ہو، تو سال گزرنے پر سائل کے ذمہ منافع سمیت اصل رقم پر بھی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(و سببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)( الی قوله)(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء اھ(2کتاب الزکوٰۃ،ج2،ص268،ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71144کی تصدیق کریں
0     505
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات