زکوۃ و نصاب زکوۃ

مال مضاربت پر زکوٰۃ-ڈالر کی زکوٰۃ پاکستانی کرنسی میں دینے کا حکم

فتوی نمبر :
70867
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مال مضاربت پر زکوٰۃ-ڈالر کی زکوٰۃ پاکستانی کرنسی میں دینے کا حکم

(۱) کسی صاحب کو کام کرنے کیلئے بطورِ مضاربت کے کچھ رقم دی تھی دو تین ماہ بعد ان کو نقصان ہوگیا، اب ان کی طرف جو رقم ہے اس پر زکوٰہ دینی یا نہیں؟ وہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو یہ رقم میں واپس کردوں گا۔
(۲) میرا بیٹا پاکستان سے باہر رہتا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ میرے بینک اکاؤنٹ میں ڈالر جمع ہیں، تو اس پر زکوٰۃ کیسے نکالی جائے گی؟
نیز وہاں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہے تو صدقہ کی مد میں جو ڈالر اس نے وہاں اپنے ذمہ لازم کئے ہیں اس کے عوض وہ یہاں پاکستان میں یہاں کی کرنسی سے صدقہ ادا کردے اور اس طرح زکوٰۃ بھی ادا کردے کیا یہ درست ہے؟
(۳) حکومت پاکستان ریٹائرڈ لوگوں اور بیواؤں کیلئے قومی بچت اسکیم کے نام سے نیشنل بینک کے ذریعہ رقم جمع کرتی ہے اور اس پر ہر سال نو فیصد یا کم و بیش سالانہ منافع دیتی ہے، یہ منافع درست ہے یا نہیں؟
نوٹ: یہ منافع جمع کرانے والے کو دیا جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) جو مالِ تجارت نقصان کے بعد بچا ہے اگر بقدر نصاب ہو یا دوسرے اموال کے ساتھ مل کر بقدر نصاب بنتا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہے، ورنہ نہیں۔
جبکہ مذکور نقصان اگر مضارب کی تعدی اور غفلت کی بناء پر نہیں ہوا ہو تو اس سے نقصان کا مطالبہ شرعاً درست نہیں، اور نہ ہی اتنی مقدار پر زکوٰۃ لازم ہے۔
(۲) جی ہاں! جتنے ڈالر بطورِ صدقہ اپنے ذمہ لازم کئے ہوں اور جتنے ڈالر زکوٰۃ میں لازم ہوتے ہیں ان دونوں مدّات کے ڈالروں کی مقدار کے عوض جتنی پاکستانی رقم بنے وہ فقراء و مساکین میں تقسیم کرسکتے ہیں، خواہ یہ تقسیم پاکستان میں ہو یا کسی دوسرے ملک اور شہر میں، بہر صورت جائز اور درست ہے۔
(۳) مذکور ادارہ میں جمع کردہ رقم پر چونکہ نو فیصد تک بطورِ منافع دیا جاتا ہے اور مذکور ادارہ کے معاملات تحقیق کی رو سے سودی لین، دین پر مشتمل ہیں اس لئے اس ادارہ میں رقم جمع کرواکر منافع لینا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، اس کے لینے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھندیة: ومنھا کون المال نصابًا فلا تجب فی اقل منه ھکذا فی العینی شرح الکنز. اھـ (ج۱، ص۱۷۲)
وفی التاتار خانیة: فاما اذا لم یکن فقراء تلک البلدة محتاجین للحال او کانوا محتاجین الّا ان فقراء بلدة اخریٰ اکثر حاجة فالصرف الی فقراء بلدة اخری اولٰی. اھـ (ج۲، ص۲۸۲)
وفی المشکوٰة: عن جابرؓ قال: لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیه وقال لھم سواء. رواہ مسلم (ج۱، ص۲۴۴) واللہ تعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70867کی تصدیق کریں
0     461
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات