کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام مذکورہ مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا مدرسہ ہے لیکن مقیم طلباء مدرسہ میں نہیں ہیں البتہ چند طلباء ایسے ہیں کہ جو ایک ٹائم کا کھانا کھاتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم زکوٰۃ وصول کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ اس ایک وقت کھانے کا انتظام مدرسہ کرتا ہے۔
دوسری بات کہ ہم اگر زکوٰۃ وصول کریں تو اس سے اساتذہِ کرام کی تنخواہیں دے سکتے ہیں یا نہیں؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں۔
جواب: مدرسے میں ایک ٹائم کھانا کھانے والے طلبہ اگر مستحقِ زکوٰۃ ہوں تو مدرسہ ان کیلئے بطورِ وکیل زکوٰۃ وصول کرکے ان پر خرچ کرسکتا ہے ورنہ نہیں، جبکہ زکوٰۃ کی مد سے تنخواہوں کی ادائیگی اور تعمیر مدرسہ درست نہیں، اور اس طرح کرنے سے دینے والوں کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی۔
قال الله تعالٰی: ﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكین﴾ (الآیة: ۶۰)
وفی الدر: ویشترط ان یكون الصرف (تملیكا) لا إباحة كما مرَّ (لا) یصرف (إلی بناء) نحو (مسجد الخ) (قال ابن عابدینؒ) (قوله نحو مسجد) كبناء القناطر والسقایات واصلاح الطرقا ...... الأنهار والحج والجهاد كل مالا علیه فیه ...... (ج۲، ص۳۴۴) والله اعلم بالصواب