السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا زکوۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوۃ کے پیسے ہیں ؟ بینوا توجروا!
واضح ہو کہ اگر زکوٰۃ لینے والے کے متعلق یقین یا غالب گمان کی حد تک اس کے مستحق ہونے کا علم ہو تو ایسی صورت میں اس کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کے متعلق صراحت کرنا ضروری نہیں ، بلکہ ہدیہ کے نام سے زکوٰۃ دی جائے ، تاکہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
قال اللہ تعالی: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ الآیۃ (آیتـ 60 سورۃ التوبۃ)
وفی الھندیۃ: اذا اراد الرجل أداء الزکاۃ الواجبۃ قالوا الافضل الاعلان والاظھار وفی التطوعات الافضل ھو الاخفاء والاسرار کذا فی فتاوی قاضیخان اھ (کتاب الزکاۃ ج 1 صـ 171 ط:ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ومن اعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ أو قرضا ونوی الزکاۃ فإنھا تجزیہ وھو الأصح ھکذا فی البحر الرائق ناقلا عن المبتغی والقنیۃ الخ (کتاب الزکاۃ ج1 صـ 171 ط:ماجدیۃ)
وفی البحر الرائق: وینبغی أن یکون مفرعاً (إلی قولہ) والأصح کما فی المبتغی والقنیۃ من أعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ أو قرضا ونوی الزکاۃ فإنھا تجزیہ ولم یشترط أیضا الدفع من عین مال الزکاۃ لما قدمناہ من أنہ لو أمر انسانا بالدفع عنہ أجزأہ الخ (کتاب الزکاۃ ج 2 صـ 212 ط:ماجدیۃ)