میری بیوی کے پاس کچھ سونےکےزیور ہے ، ان کو 29جما د ی الاول کو سال پوراہو جا ئے گا ، کیا ہم زکوۃ کی رقم 29تاریخ کے بعد بھی تھوڑی تھوڑی کر کے نکال سکتےہے اگررقم کم ہو تو یا 29 تاریخ کو ہی رقم نکالنی پڑے گی؟
دوسرا سوال یہ تھا کہ 29 تاریخ کو جو زکوۃ نکلے گی فورا ادا کرنا ہو گی یا وقفے وقفے سے ضرورت مند کو دے سکتے ہے؟
زکوۃ یکمشت ادا کرنا ضروری نہیں ہے ،بلکہ تھوڑی تھوڑی کرکے بھی ادا کی جاسکتی ہے،تاہم اس کی کوشش کرنی چاہیئے کہ جس قدر جلد ہوسکے ادا کرکے اس فرض سے سبکدوشی حاصل کرلی جائے،جبکہ جس دن سال مکمل ہو اس دن زکوۃ کا حساب لگالیا جائے کہ کتنی زکوۃ لازم ہے،اور پھر اس حساب سے زکوۃ ادا کی جائے اور رقم دیتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے،ورنہ زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔واللہ اعلم