زکوۃ و نصاب زکوۃ

نابالغ اولاد کو ،مالِ زکوۃ کامالک بنادینے کی صورت میں زکوۃ کا حکم-غیر مسلم کے ہاتھ ٹی وی بیچنا

فتوی نمبر :
60458
| تاریخ :
1998-10-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نابالغ اولاد کو ،مالِ زکوۃ کامالک بنادینے کی صورت میں زکوۃ کا حکم-غیر مسلم کے ہاتھ ٹی وی بیچنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ!
(۱) مَیں اپنے زیورات اپنی اولاد کو (جوکہ نابالغ ہے) مالک بنادوں ،تو کب زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
(۲) میں اپنی چیزوں کی مالک ہوں اگر بانٹ دوں یعنی مالک بنادوں تو کیا میں حساب کتاب (آخرت کے) سے بچ جاؤں گی؟ مالک بنانے کیلئے کیا ضروری ہے کہ اولاد کے علاوہ کسی اور کو بنایا جائے؟ یا اولاد کو بنادیں ساری چیزوں کا تو کوئی جرم ہے؟
(۳) ٹی وی کو کسی عیسائی یا غیر مسلم کے ہاتھ فروخت کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) ایسا کرنے سے آپ کی اولاد ان زیورات کی مالک بن جائے گی اور نابالغ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اس کی ملکیت میں چاہے مالِ کثیر ہی کیوں نہ ہو ، مگر عام طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے ایک حیلہ کے طور پر ایسا کیا جاتا ہے، اگر چہ اس عمل سے زکوٰۃ ساقط ہوجاتی ہے لیکن اس طرح حیلے اور بہانے کرکے اﷲ تعالیٰ کے فرض سے راہِ فرار اختیار کرنا انتہائی نامناسب ہے اور یہ عمل ،ایسا کرنے والے کی لالچ اور بخل پر بھی دلالت کرتا ہے، لہٰذا محض حیلہ سازی سے احتراز لازم ہے۔
(۲) زندگی میں ہر شخص اپنے مال و جائیداد کا مالک ہوتا ہے، کسی دوسرے کو اس سے تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کرنا قطعاً درست نہیں، البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو یہ شرعاً ہبہ کہلاتا ہے جو جائز اور درست ہے، اس تقسیم میں اولاد اور اجنبی دونوں برابر ہیں پھر اولاد اگر نیک و صالح ہو تو دوسروں کو دینے کے بجائے ان میں ہی تقسیمِ جائیداد بہتر اور افضل ہے اور اس تقسیم میں لڑکے اور لڑکی کو برابر حصہ دینا چاہئے، اس طرح کرنے سے انشاء اﷲ تعالیٰ آخرت کے مواخذہ سے بھی گلو خلاصی ہوجائے گی۔
(۳) جی ہاں ان کے ہاتھ فروخت کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لما فی الہندیۃ: قال الخصاف کرہ بعض اصحابنا الحیلۃ لا سقاط الزکوٰۃ و فیہ :و الذی کرہہا محمد بن الحسن (الٰی قولہ) و مشایخنا رحمہم اﷲ اخذوا بقول محمد دفعًا للضرر عن الفقراء۔(ج۶، ص۳۹۱)۔
و فی اعلاء السنن: الفرارمن الزکوٰۃ یحتمل وجوہًا (الٰی قولہ )و الثانی: الحرص علی جمع المال بجبہ و ہو مذموم الخ۔(ج۱۸، ص۴۱۵)۔
لما فی الدر المختار: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب و کذا فی العطایا اذا لم یقصد بہ الاضرار و ان قصدہ یسوی بینہم یعطی البنت کالابن عندالثانیؒ و علیہ الفتوی و لو وہب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم أی و قصد حرمان بقیۃ الورثۃ۔ الخ(ج۵، ص۶۹۶)۔
نظیرہ فی الدّر المختار: و جاز بیع عنب ممن یعلم انہ یتخذہ خمرًا لان المعصیۃ لا تقوم بعینہ الخ(ج۶، ص۳۹۱)۔
و فیہ ایضًا (فائدۃ) و من ذالک ضرب النوبۃ (إلٰی قولہ )کما إذا ضرب فی ثلاث اوقات لتذکیر ثلاث نفخات الصورالخ و فی الرد اثناء البحث : اقول: و ھذا یفید أن آلۃ اللہو لیست محرّمۃ لعینہا بل لقصد اللہو منہا(الٰی قولہ) ألا تری ان ضرب تلک الآلۃ حل تارۃ وحرم اخرٰی باختلاف النیۃ۔ اھـ(ج۶، ص۳۵۰)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60458کی تصدیق کریں
0     541
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات