کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قیامت میں آدمی کو کس طرح پکارا جائےگا ، یعنی آدمی کے نام کے ساتھ ، والد کا یا والدہ کا نام پکارا جائے گا ؟
قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے والد کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا، جبکہ بعض احادیث میں والدہ کے نام کے ساتھ پکارنے کی بھی تصریح آئی ہے۔
ففی سنن أبي داود : عن أبي الدرداء ، قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:’’إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم ، و أسماء آبائكم ، فأحسنوا أسماءكم‘‘ اھ(4/ 287)۔
و فی بذل المجہود : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : ’’إنكم تدعون يوم القيامةالخ نقل فی الحاشية عن اللمعات قد جاء فی بعض الروایات أنه یدعی الناس یوم القیامة بأسماء أمھاتھم فقیل الحکمة فیه ستر حال اولاد الزناء لئلا یفتضحوا و قیل ذلك لرعاية حال عیسیٰ بن مریم و قیل غیر ذلك فان ثبت ھذا الرواية حمل الآباء علی التغلیب اھ ( ۶/ ۲۶۷)۔