میں اس سال حج کو گئی تھی، واپسی پر مدینہ کا سفر ہوا، وہاں لائبریری میں جاتی تھی، وہاں معلمہ (ام عائشہ) درس دیتی ہیں اردو میں، انہوں نے چند باتیں ایسی کہیں کہ میں بہت زیادہ confuse ہوگئی، مہربانی کرکے تصحیح کردیں ۔
1۔ میں نے فضائلِ اعمال کےبارے میں پوچھا، انہوں نے جواب دیا کہ اس میں من گھڑت اور موضوع باتیں ہیں اور لوگوں کے گھر سے نکال دو اور مجھ سے فضائلِ حج لے لی اور کہا کہ اس کو پڑھ کر میں بتاؤنگی کہ اس میں کیا کیا غلط باتیں ہیں۔
2۔ میں نے سلفی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا آپؐ سلفی تھے۔
3۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپﷺ نے کبھی رفع الیدین نہیں چھوڑ ا، ہم کو بھی رفع یدین کرنا چاہیۓ۔
4۔ میں اُن کی باتیں سن کر بہت confuse ہوگئی تھی، میں نے کراچی فون کیا تو کراچی سے بتایا گیا کہ میں ان کے پاس نہیں بیٹھوں، تاکہ confus نہ ہو ں، تومیں نے یہ باتیں معلمہ سے کہیں، وہ بہت حیران ہوئی اور کہا مسجد نبویؐ علم کا گڑھ ہے ، علم یہاں سے شروع ہوا، اور حدیث بتائی جس کا مفہوم یہ ہے جو میری مسجد میں علم سیکھنے یا سکھانے آئے، اس کو جہاد کا ثواب ملتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے علماء کی ان کے سامنے کو ئی وقعت نہیں ہے، ڈاکٹر اسرار لائیک کرتی ہیں کہ وہ توحید پر بات کرتےہیں ، مولانا مودودی کو غلط کہہ رہی تھیں، اور کہا کہ پاکستان کے شہید مولانا یوسف لدھیانی نے ان کے ترجمہ میں غلطیاں نکالی تھی جو ہم نے تحقیق کی تو وہ صحیح تھیں۔
5۔اور یہ کہا کہ ہم چاروں ائمہ کی صحیح باتیں لے لیتے ہیں اور غلط باتیں چھوڑ دیتے ہیں، ہم نہ مالکی ہیں، نہ شافعی ہیں، نہ حنفی ہیں، نہ حنبلی ہیں۔
6۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘‘بہشی زیور’’ صحیح نہیں ہے۔
7۔ اور نماز کے بارےمیں یہ بتایا کہ عورتوں کی نماز پاکستان میں صحیح نہیں ہےاور آپؐ کی حدیث بتائی نماز ایسی پڑھوجیسی مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو، مفہوم، اور خاص کر عورتوں کا رکوع اور سجدہ غلط ہے، حدیث میں یہ طریقہ عورتوں کا کہیں نہیں ہے۔
8۔اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو حاجیوں سے کہتے ہیں کہ میرا سلام کہدینا، تو ان سے کہاکرو، وہیں سے سلام کہدیں، فرشتوں کی جماعت ہے جو آپؐ کو سلام پہنچاتی ہے اور آپؐ کو برزخ میں روح لوٹائی جاتی ہے اور آپؐ جواب دیتے ہیں۔
۱۔ سوال میں ذکر کردہ باتوں سے معلوم ہوتاہے کہ مذکو رعورت غیر مقلدہے، جو ہمارے یہاں اپنے آپ کو اہلِ حدیث کہلواتے ہیں اور اپنے آپ کو سلفی بھی کہتے ہیں، ان سے تعلق رکھتی ہے اور یہ فرقہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں، اہلِ سنت والجماعت اور ان لوگوں میں بہت سے اصولی و فروعی اختلافات ہیں، یہ لوگ خداتعالیٰ کو عرش پر بیٹھا ہوا مانتے ہیں ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیارِ حق نہیں مانتے، اسلافِ امت خصوصاً ائمہ علیہم الرحمۃ پر سب وشتم اور ان پر طعن وتشنیع، ان کا وتیرہ ہے اور ان کی تقلید کو جس کے وجوب پر امت کا اجماع ہو چکا ہے، ناجائز اوربد عت، بلکہ بعض تو شرک تک کہدیتے ہیں، بہت سے اجماعی مسائل کے منکر ہیں، صحابہ کرام کا بیس رکعت تراویح کے سنت ہونے پر اجماع ہے، جبکہ یہ لوگ اسے بدعتِ عمری قرار دے کر سرے سے رد کر دیتے ہیں، جمعہ کی پہلی اذان کو بدعتِ عثمانی کہتے ہیں، ایک مجلس میں تین طلاق کا وقوع جو احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور جس پر صحابہ و جمہور علماء کا اجماع ہے، انکار کرتے ہیں اور ایک طلاق کا فتویٰ صادر کرکے زنا کاری وبد کاری میں مبتلاکرتے ہیں اور ان میں سے بعض چار(4) سے زیادہ عورتوں سے نکاح کو جائز کہتے ہیں، تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ جو شخص اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، مواکلت، مشاربت ومناکحت کو دواماً اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر بھی سلف پر بداعتمادی اور ان پر طعن وتشیع جیسے زہریلے جراثیم سرایت کر جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ آدمی اپنے دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتاہے، لہٰذا سائلہ پر لازم ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے ساتھ میل جول سے احترا زکرے۔ جبکہ اس کی مذکور باتیں قرآن وحدیث سے ناواقفیت پر مبنی ہیں، جیسا کہ آنے والے جوابات سے واضح ہو جائے گا اور خود اس کے ان الفاظ کہ"آپ ﷺبھی سلفی تھے" سے بھی عیاں ہے کہ اسے اتنا بھی علم نہیں کہ یہ اصطلاح بعد کی گھڑی ہوئی ہے، خود آپ کے زمانہ میں اس کا وجود نہیں تھا اور معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے پر واضح ہے کہ سلفی اسے کہا جاتا ہے جو سلف کا متبع ہو، آپ کس کی اتباع کرتے تھے؟
اور اس کا کہنا کہ "مسجدِ نبوی علم کا گڑھ ہے" یہ بلاشبہ درست ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں کوئی دین اور علم سے بے بہرہ شخص بیٹھ کر بے تحقیق اور رٹی رٹائی باتیں کرنے لگے تو وہ علم کہلانے لگے، جبکہ محض مسجدِ نبوی میں درس دینے کی وجہ سے خود اپنے مقابلہ میں پورے ہندوستان، پاکستان کے علماء کو بے وقعت قرار دینا خود ایک جہالت ہے۔
(2)۔ مذکور عورت کا ’’فضائلِ اعمال‘‘ اور’’بہشتی زیور‘‘ جیسی کتابوں کو غلط کہنا بے بنیاد اور لاعلمی پر مبنی ہے،مذکور کتابیں قابلِ اعتماد، مستند حنفی، اہل سنت والجماعت کے علماءوبزرگان دین کی تصانیف ہیں۔ ’’بہشتی زیور‘‘ کے مسائل مجموعی حیثیت سے قابل اعتمادہیں، اسی طرح ’’فضائلِ اعمال‘‘ کے اندر ضعیف روایت شرائط کے ساتھ معتبر ہے اور ان شرائط کا ’’فضائلِ اعمال‘‘ کتاب کے اندر بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔
(3)آپﷺ پر درود شریف بھیجنے کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ کسی انسان کو ذریعہ بنانا ہے اور فرشتوں کے ذریعہ درود و سلام بھجوانا بھی کوئی غلط طریقہ نہیں۔
في اصول الفقه الاسلامی: فقال اکثر المتأخرین: لایجوز تقلید غیر الأئمة الاربعة من المجتھدین، لان مذاھبھم غیرمدونة و لامضبوطة، مما یجعل المقلد المقتدی بھا عرضة للخطأ و التأویل فیھا بخلاف مذاھب الأئمة الاربعة، فانھا منقحة معروفة مضبوطة، بسبب تدوینھا و عناية تلامیذھم بتوضیح الخفی منھا، و تخصیص عامھا و تقیید مطلقھا ، و ھذا یوجب اطمئنان النفس الی الأخذ بھا، لقربھا من الحق و بعدھا عن الخطأ اه(2/1140)۔
وفی الدر المختار: ولو قال لآخر: أقرئ فلانا السلام يجب عليه ذلك(6/ 415)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله يجب عليه ذلك) لأنه من إيصال الأمانة لمستحقها، والظاهر أن هذا إذا رضي بتحملها تأمل. ثم رأيت في شرح المناوي عن ابن حجر التحقيق أن الرسول إن التزمه أشبه الأمانة وإلا فوديعة اهـ. أي فلا يجب عليه الذهاب لتبليغه كما في الوديعة قال الشرنبلالي: وهكذا عليه تبليغ السلام إلى حضرة النبي - صلى الله عليه وسلم - عن الذي أمره به؛ وقال أيضا: ويستحب أن يرد على المبلغ أيضا فيقول: وعليك وعليه السلام اهـ. (6/ 415)۔