وضو

دورانِ وضو یا اس کے بعد مسوڑھوں سے خون نکلتا ہو تو وضوء کا کیا حکم ہے ؟

فتوی نمبر :
9238
| تاریخ :
2010-08-16
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دورانِ وضو یا اس کے بعد مسوڑھوں سے خون نکلتا ہو تو وضوء کا کیا حکم ہے ؟

مجھے مسوڑھوں کا مسئلہ ہے، جب بھی میں مسوڑھوں کو چھوتا ہوں یا وضو کرتا ہوں تو اس وقت یا تھوڑی دیر بعد خون آتا ہے، میں اس خون کو روکنے کیلیے ٹھنڈا پانی استعمال کرتا ہوں، لیکن پھر بھی میرے تھوک کا رنگ پیلا یا لال کے قریب کا ہوتا ہے، برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا میرا وضو ٹھیک ہے یا مجھے دوبارہ وضو کرنا ہے یا صرف کلّی کرنی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس صورت میں سائل کو چاہیے کہ کُلّی کرنے میں مبالغہ نہ کرے جس کی وجہ سے خون جاری ہو اور جاری ہونے کی صورت میں جب تک خون بند نہ ہو وضو میں جلدی نہ کرے بلکہ انتظار کرے، جبکہ وضو کے بعد خون شروع ہونے کی صورت میں جب تک خون تھوک پر غالب نہ ہو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: وینقضه دم مائع من جوف أو فم غلب علی بزاق حكمًا للغالب أو ساواه احتیاطًا لا ینقضه المغلوب بالبزاق اھ (1/139)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زید جنید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9238کی تصدیق کریں
0     1168
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات