گناہ و ناجائز

لنکڈن اکاؤنٹ کرایہ پر دینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
86769
| تاریخ :
2025-09-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لنکڈن اکاؤنٹ کرایہ پر دینا جائز ہے؟

السلام علیکم !
میں فیس بک پر ایک ایجنٹ سے ملتا ہوں جس نے مجھے کہا کہ اگر میں اسے اپنا لنکڈ اکاؤنٹ دے دوں تو وہ مجھے کرایہ دے گا اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ میرے اکاؤنٹ کا کیا کریں گے اور اس نے کہا کہ وہ مارکیٹنگ کریں گے بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ شراب کمپنیوں کو برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کر رہا ہے کیا یہ کرائے کی رقم میرے لیے حرام ہے یا حلال کیونکہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے اکاؤنٹ کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سوشل میڈیا کی مختلف پلیٹ فارمز پر جو شخص اپنا ذاتی اکاؤنٹ کھولتا ہے،تو وہ پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو چند شرائط کے ساتھ اس کے استعمال کا حق دیتی ہے ، جس میں اس اکاؤنٹ کو کسی دوسرے فرد کو فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کی ممانعت بھی شامل ہے ، جس کی صراحت کمپنی پالیسی میں بھی موجود ہے ، اس لیے سائل کا اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے بندے کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وفي الأشباه ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض ‌عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف الخ (باب الوقف ج:4 ص:518 ناشر: الحلبی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86769کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات