کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام،کہ میرے بیٹے نے اپنی منکوحہ کو درجہ ذیل حالات میں طلاق دی ہے۔
الف۔ابھی صرف (ایک سال قبل) نکاح ہوا ہے رُخصتی نہیں ہوئی ہے۔
ب۔لڑکی اور لڑکے کی کبھی خلوت میں ملاقات نہیں ہوئی-
ج ۔لڑکی اور لڑکے نے کسی قسم کی مباشرت نہیں کی ہے۔
د۔لڑکے اور لڑکی کی اکثر فون پر بات چیت ہوتی تھی،اور گزشتہ رمضان کی آخری عشرے میں لڑکے نے طیش میں آکر موبائل فون پر لڑکی کو چند منٹ کے وقفے سے (3) تین بار یعنی ایک بار تحریری پیغام کے طور پر صرف لفظ طلاق لکھ کربھیجا،پھر پانچ چھ منٹ بعد دوبارہ یہی لفظ (طلاق) میسج کیا ،اور پھر تیسری بار دس منٹ بعد یہی (طلاق) میسج کردیا،اور اب پشیمان ہے،لہٰذا ایسی صورت میں دوبارہ نکاح کی تجدیدکا بغیر حلالہ کے کیا صورت ہوگی؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے بیٹے اور اس کی بیوی کے درمیان اگر نکاح کے بعد کبھی ایسی خلوت اور تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو کہ جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور اس سے قبل سائل کے بیٹے نے اپنی بیوی کو بذریعہ میسج متفرق طور پر الگ الگ الفاظ میں تین طلاقیں لکھ کر بھیجی ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بہو پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہیں،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا،البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرکے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا تاہم اس نکاح کے بعد سائل کے بیٹے کو آئندہ کے لیے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا لہذا آئندہ کے لیے طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
کمافی الفتاوى الهندية :إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية الخ (ج1 ص373 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفي الهداية: فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة " الخ کتاب الطلاق ج1 ص233 ط رحمانیۃ)۔