کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ، انہوں نے اپنی زندگی میں وراثت اولاد میں تقسیم کردی اور مالکانہ حقوق بھی دیدیا ، ایک پلاٹ والدہ کے نام کیا ہے کہ ادھا حصہ والد صاحب کا اور ادھا حصہ والدہ کا اور والدہ سے کہا کہ آپ اپنے حصے کی جو مرضی کرو میرے حصے کو ہاتھ نہ لگانا ، پلاٹ پر مرضی والد صاحب کی چلتی تھی ، رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: سائل کے والدمرحوم نے مذکور پلاٹ صرف والدہ کے نام کیا تھا ، باقاعدہ مالکانہ حقوق والد کے پاس تھا ۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائل کے والدِ مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں جو جائیداد اپنی اولاد کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی تھی وہ تو ان کی ملکیت بن چکی تھی ، ا ب وہ مرحوم کے ترکے میں شامل نہ ہوگی ۔
جبکہ جس پلاٹ کا آدھا حصہ سائل کے والد مرحوم نے اپنی بیوی کے نام کیاتھا ، اس کی اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں باقاعدہ طور پر حد بندی کرکے بیوی کا حصہ علیحدہ نہ کیا ہو، تو فقط نام کردینے سے مرحوم کی بیوہ شرعاً پلاٹ کے آدھے حصے کی مالک نہیں بنی بلکہ وہ پورا پلاٹ مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو کہ اب دیگر ترکے کی طرح بیوہ سمیت مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا ، تاہم سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں نے والد کی زندگی میں جو حصہ وصول کیا ہے ، وہ اگر ترکے میں انہیں ملنے والے حصے کےبقدر یا اس سے زیادہ ہو تو انہیں اب ترکے میں سے حصے لینے کے بجائے اپنا اپنا حصہ مرحوم کی بیوہ کو دینا چاہئیے ، البتہ ایسا کرنا ان کےذمہ لازم اور ضروری نہیں۔
کما فی شرح المجلة : وتنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل، لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض۔( المادة: 837، ص:462)۔
و فی الھندیہ:"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية۔(4/378)۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية.(5/690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2