میرے والد صاحب نے اپنے انتقال سے سات سال قبل اپنی زمین ہم دونوں بھائیوں کے نام کر دی تھی ہماری ایک سگی بہن اور ایک سوتیلی بہن ہے کیا بہنوں کا حصہ بنتا ہے ان زمینوں میں ؟میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں کوئی وصیت بھی نہیں کی تھی ان زمینوں کو لے کر ۔
والد صاحب مرحوم نے مذکور زمین وفات سے سات سال قبل اگر اپنے دوبیٹوں یعنی سائل اور اس کے بھائی کے فقط کاغذات میں نام نہ کی ہو ، بلکہ زمین ان کے درمیان تقسیم کر کے انہیں اپنے اپنے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دے دیا ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور زمین دونوں بیٹوں کی ملکیت شمار ہو گی ؛ اور بیٹیوں کو اس زمین میں کسی قسم کے مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا ، تاہم اگر بھائی اپنی مرضی و خوشی سے بہنوں کو اس زمین میں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے اور باعثِ اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں جبکہ والد مرحوم نے اپنی ملکیت میں اس زمین کے علاوہ اگر کوئی جائیداد اور کیش رقم وغیرہ بطور ترکہ چھوڑا ہو تو اس میں بیٹوں کی طرح بیٹیاں بھی اپنے حصہ شرعیہ کے بقدر حقدار ہو ں گی۔
کما فی الدرالمختار : (و رکنہا) ھو (الایجاب و القبول (و تتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل ( کتاب الھبۃ : ج 5 ص 688 ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی اعلاءالسنن : و رکنھا الا یجاب والقبول ، لان ملک الانسان لاینتقل الی الغیر بدون تملیکہ و الزام الملک علی الغیر لایکون بدون قبولہ (الی قولہ) و القبض لابد منہ لثبوت الملک (الی قولہ ) لالصحۃ العقد (کتاب الھبۃ ج 16 ص 68 ط : ادارۃالقران و العلوم الاسلامیۃ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2