السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ والد نے دو شادیاں کی ہیں اور پہلی بیوی سے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں اور دوسرے بیوی سے 3 بیٹے ہیں ، پہلی بیوی کی وفات ہو چکی ہے اور کچھ وقت پہلے پہلی بیوی کا ایک بیٹا بھی وفات پاچکا ہے جو اپنے ترکہ میں ایک گھر چھوڑا کر گیا ہے ، اور وہ غیر شادی شدہ تھا ، اس بھائی کے والد حیات ہے اور باقی پہلی بیوی سے 1 بھائی اور دو بہنیں زندہ ہیں ، والد کا کہنا یہ ہے کے متوفی بیٹے کی جائیداد میں سواۓ ان (باپ) کے اور کسی بہن اور بھائی کا حصہ نہیں ہے ، اور نہ ہی وہ قانونی وارث ہیں ، میرا سوال یہ ہے کہ آیا متوفی غیر شادی شدہ بھائی کی جائیداد میں اس کے باپ کے علاوہ اس کے بھائی اور بہن بھی جائیداد میں برابر کے وارث ہیں ؟ اگر ہاں تو کتنا حصہ ہوگا ۔ جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ متوفی بیٹے کے والد کی موجودگی میں ،اس کے بہن بھائی شرعًا وارث نہیں ہوتے ، لہذا مسئولہ صورت میں والد کی موجودگی میں مرحوم کے بہن بھائی کا اس کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی انہیں ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے , البتہ اگر والد اپنی مرضی و خوشی سے انہیں کچھ دینا چا ہے ، تو اس کا اسے اختیار ہے مگر ایسا کر نا شرعاً اس پر لازم نہیں ۔
کما فی السراجی : و یسقطون بالولد و ولد الابن و ان سفل و بالاب و الجد بالا تفاق (احوال اولاد الام ص 17 ط بشرٰی) ۔
و فی الدر المختار : ثم العصبات بانفسہم اربعۃ اصناف جزء المیت ثم جزء ابیہ ثم جزء جدہ (و یقدم الاقرب فالاقرب منہم ) بہذا الترتیب فیقدم جزء المیت ( کالابن ثم ابنہ و ان سفل ثم اصلہ الاب و یکون مع البنت ) باکثر عصبۃ و ذاسہم کما مر ( ثم الجد الصحیح ) و ھو ابو الاب ( و ان اعلا ) واما ابو الام ففاسد من ذوی الارحام ( ثم جزء ابیہ الاخ ) لا بوین ( فصل فی العصبات ج 6 ص 774 ط : ایچ ایم سعید )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2