نجاسات اور پاکی

پانی کی ٹنکی سے پرندہ اگر زندہ نکالا جائے تو ٹنکی پاک شمار ہوگی یا نہیں؟

فتوی نمبر :
69067
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پانی کی ٹنکی سے پرندہ اگر زندہ نکالا جائے تو ٹنکی پاک شمار ہوگی یا نہیں؟

ہماری ٹینکی میں کبوتر گر گیا تھا ، اس کو زندہ نکالا ہے ، اب وہ ٹینکی کا پانی پاک ہے یا نہیں؟ ٹنکی کا پانی صاف کرواؤں یا اس کا پانی ختم کردوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر کبوتر کے جسم پر کوئی ظاہری ناپاکی لگی ہوئی نہ تھی اور ٹینکی سے زندہ نکالا گیا ، تو ایسی صورت میں ٹینکی میں کبوتر گرنے سے ٹنکی کا پانی ناپاک نہ ہوگا، لہذا ٹینکی صاف کرنے اور اس سے پانی نکالنے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المحیط البرہانی : إذا وقع في البئر فأرة أو عصفور أو دجاجة أو سنور أو شاة وأخرجت منها حيّة لا ينجس الماء و لا يجب نزح شيء منه۔(1/101)۔
و فی الدر المختار : قيد بالموت ؛ لأنه لو أخرج حيا و ليس بنجس العين ولا به حدث أو خبث لم ينزح شيء إلا أن يدخل فمه الماء فيعتبر بسؤره ، فإن نجسا نزح الكل وإلا لا هو الصحيح ، نعم يندب عشرة من المشكوك لأجل الطهورية كذا في الخانية، زاد التتارخانية : و عشرين في الفأرة، و أربعين في سنور و دجاجة مخلاة كآدمي محدث۔(213/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69067کی تصدیق کریں
1     1235
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات