السلام علیکم : مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تفصیل سے عنایت فرمائیں۔
۱۔ مرد وعورت کے لئے بھنوؤں کے بال اکھیڑنا اسلام میں کیسا ہے اور اگر دونوں بھنوئیں بالوں سے مل گئی ہوں تو کیا اکھیڑنا جائز ہوگا؟
۲۔ جسم کے کن اعضاء پر بال اکھاڑنا حرام نہیں؟
۳۔ اگر کسی کے گال پر بال ہوں تو کیا نوسہ کے ذریعہ بال اکھاڑ سکتے ہیں؟
۴۔ کیا شوہر اپنی بیوی کی چھاتی کا دودھ پی سکتا ہے؟
۵۔ قرآن کی کس آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے؟
برائے مہربانی سورۃ اور آیت نمبر بتائیں اور اگر خوبصورتی سے متعلق دوسری آیات ہوں تو وہ بھی بتائیں۔
شادی شدہ عورت شوہر کی اجازت سے یا اُسے خوش کرنے کیلئے اپنی موٹی یا بڑی بھنوؤں کو عام بھنوؤں کے برابر باریک کرنے اور اپنے چہرے کے بال صاف کرنا چاہے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے مگر اس سلسلے میں اتنا مبالغہ نہ کرے کہ ہیجڑوں کیساتھ مشابہت ہونے لگے جبکہ بلاوجہ بھنویں بنانے سے احتراز چاہیے۔
۴۔ شوہر کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے اس لئے اس سے احتراز لازم ہے اوار اگر چوسنے سے دودھ کے کچھ قطرے اس کے منہ میں چلے جائیں تو بجائے انہیں نگلنے کے تھوک دینا لازم ہے۔
۵۔ یہ قرآن شریف کی کسی آیت میں نہیں البتہ درجِ ذیل روایتِ حدیث سے یہ معنی بخوبی ثابت ہورہے ہیں۔
وفی الشامیة: ولا بأس بأخذ الحاجبین وشعر وجھه مالم یشبه المخنث اھ ج،۶ ص۴۰۷
وفی الدر: (ولم یبح الارضاع بعد مدته) لانه جزء آدمی والانتفاع به بغیر ضرورة حرام علی الصحیح اھ (ج۳، ص۲۱۱)
وفی المشکوٰة: عن ابن مسعود قال قال رسول الله ﷺ لا یدخل الجنة من کان فی قلبه مثقال ذرة من کبر فقال رجل أن الرجل یحب أن یکون ثوبه حسنا ونعله حسنا قال ان الله تعالیٰ جمیل یحب الجمال الکبر بطرالحق وغمط الناس اھ (ص۴۳۳)