کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حجامہ یعنی پچھنے لگوانا کون سے دن سنت ہے؟ کیا کسی دن پچنے لگوانے کی ممانعت بھی ہے؟ یا کسی بھی دن لگوا سکتے ہیں؟قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکور سوالوں کا مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
حجامہ ( بچھنا لگوانا) مسنون ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس کے فضائل وارد ہوئے ہیں، علماءِ اُمت اور اطباء نے بھی اس کے فوائد بیان فرمائے ہیں۔ اور اس کا لگوانا اگرچہ فی نفسہ ہرروز جائز اور درست ہے، مگر اس کے لیے بہتر وقت مہینہ کا آخری نصف ہے، کیونکہ اس عرصہ میں رطوباتِ فاسدہ اور فاسد خون اوپر آجاتا ہے اور صالح رطوبات باطن (تہہ) میں چلے جاتے ہیں، مگر ہفتہ، جمعہ اور بدھ کے دن پچھنا لگوانے میں نقصان کا اندیشہ ہے، اس لیے ان دنوں میں اس سے احترازچاہیے، جبکہ قمری مہینہ کے سترہ، انیس، اور اکیس تاریخ کو پچنا لگوانا مستحب ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يستحب الحجامة لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين. رواه في شرح السنة(2/ 1283)-
وفیه أیضاً: وعن أنس قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يحتجم في الأخدعين والكاهل. رواه أبو داود وزاد الترمذي وابن ماجه: وكان يحتجم سبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين(صحيح) (2/ 1283)-
وفیه أیضاً: وعن أبي كبشة الأنماري: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحتجم على هامته وبين كفيه وهو يقول: «من أهراق من هذه الدماء فلا يضره أن لا يتداوى بشيء لشيء» . رواه أبو داود وابن ماجه(2/ 1282)-
وفیه أیضاً: وعن أبي هريرة عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء له من كل داء» . رواه أبو داود(2/ 1283)-
وفی سنن الترمذي: فقال أنس: احتجم رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وحجمه أبو طيبة فأمر له بصاعين من طعام، وكلم أهله فوضعوا عنه من خراجه، وقال: «إن أفضل ما تداويتم به الحجامة»، أو «إن من أمثل دوائكم الحجامة»(3/ 568)-
وفی العرف الشذي شرح سنن الترمذي: قوله: (في الأخدعين إلخ) الأخدعان العرقان، قال ابن سينا في قانونه: إن الحجامة يفيد في النصف الأخير من الشهر، فإن الرطوبات الصالحة تكون في الظاهر والفاسدة في الباطن في النصف الأول، وفي النصف الأخير يعكس الأمر. (3/ 352)-
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0