اصل مسئلہ یہ ہے، تربت میں میرا مل ہے، یہاں پر گورنمنٹ کا گندم آیا ہوا ہے، میرے پاس پیسہ نہیں ہے کراچی کامل والا میرا دوست ہے، وہ کہہ رہا ہے یہ گندم میں خرید ونگا گورنمنٹ سے آپ کو دونگا، گورنمنٹ کا ریٹ 5000 ہے پر بوری وہ کہہ رہا ہے میں جب آپ کو دونگا تو 5100 آپ سے لے لونگا، جب گندم 3000 بوری ختم ہونگے تو آپ کو مجھے میرے پیسہ دینے ہیں، اصل میں گندم وہ خرید رہا ہے، لیکن چونکہ وہ کراچی میں ہے گندم تربت کے سرکاری گودام میں ہے، وہ پیسہ مجھے بھیج رہا ہے، کہ گندم خریدو، میرے لیے 5000 میں اور میں یہ گندم آپ کو دے رہا ہوں 5100 میں۔
صورت مسئولہ میں مذکور گندم کی خریداری کا درست اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ سائل پہلے اپنے (کراچی والے) دوست کی طرف سے وکیل (وکیل بالشراء) بن کر فی بوری پانچ ہزار (5،000) روپے کے حساب سے گورنمنٹ سے خرید کر اس پر قبضہ کرلے اور قبضہ کر لینے کے بعد اس کراچی والے دوست کو فون وغیرہ کے ذریعہ اطلاع کر دے، کہ میں نے گندم خرید کر اس پر قبضہ کر لیا ہے، چنانچہ اس طرح کرنے سے سائل کا دوست گندم کا مالک بن جائیگا ( اور وکالت کا معاملہ ختم ہو جائیگا )، اس کے بعد اگر سائل ایک نئے عقد کے ذریعہ مذکور دوست یا اس کی طرف سے مقرر کردہ شخص سے ان گندم کی بوریوں کو خرید لے اور قیمت کی ادائیگی کے لئے وقت مقرر کرلے ، تو اس طرح معاملہ کر ناشر عا جائز اور درست ہو گا۔
كما في الهداية شرح البداية: قال والوكيل بالبيع والشراء لا يجوز له أن يعقد مع أبيه وجده ومن لا تقبل شهادته له عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا يجوز بيعه منهم بمثل القيمة إلا من عبده أو مكاتبه لأن التوكيل مطلق ولا تهمة اھ (3/ 145)
وفيه ايضا : قال ومن وكل رجلا بشراء شيء فلا بد من تسمية جنسه وصفته أو جنسه ومبلغ ثمنه ليصير الفعل الموكل به معلوما فيمكنه الائتمار إلا أن يوكله وكالة عامة فيقول ابتع لي ما رأيت لأنه فوض الأمر إلى رأيه فأي شيء يشتريه يكون ممتثلا اھ (3/ 139)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما التصرفات الدائرة بين الضرر والنفع: كالبيع، والإجارة؛ فإن كان مأذونا له في التجارة يصح منه التوكيل بها؛ لأنه يملكها بنفسه اھ (6/ 20)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0