(+92) 0317 1118263

شہادت

کن کن اموات میں شہادت کا رتبہ ہے؟

کن کن اموات میں شہادت کا رتبہ ہے؟ فتوی نمبر: 42697

الاستفتاء

کن کن اموات میں شہادت کا رتبہ ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

حقیقی شہید (جس پر دُنیا میں بھی شہید کے احکام جاری ہوں گے) وہ ہےجو میدان جہاد میں مارا جائے یا کسی مسلمان کے ہاتھوں ظلماً قتل ہو اور دیت یا قسامہ کا وجوب بھی نہ ہوتا ہو، جبکہ اس کے علاوہ طاعون (وباء) سے مرنے والا، پانی میں ڈوب کر، آگ میں جل کر یا کسی ملبہ کے نیچے دب کر مرنے والا وغیرہ بھی حکماً شہید ہوگا، تاہم سائل ان کے علاوہ کسی خاص نوع کی موت کےبارےمیں پوچھنا چاہ رہا ہو تو اس کی صرحت کرکے سوال دوبارہ بھیج دے، تو انشاء اللہ اس کے بارے میں حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔


فی المؤطا للإمام محمد: قال رسول اللہ ﷺ الشہادۃ سبع سوی القتل فی سبیل اللہ المطعون شہید، وصاحب الحریق شہید، والغریق شہید، وصاحب ذات الجنب شہیدٌ، والذی یموت تحت الہدم شہید، والمرأۃ تموت بجمع شہیدٌ، والمبطون شہیدٌ اھـ (ج۱، ص۱۶۵)۔


وفی الہدایۃ: الشہید من قتلہ المشرکون أو وجد فی المعرکۃ وبہ اثر أو قتلہ المسلمون ظلماً، ولم یجب تقتلہ دیۃ فیکفن ویصلی علیہ ولا یغسل ومن قتلہ اہل الحرب أو اہل البغی أو قطاع الطریق فبأی شیء قتلوہ اھـ (ج۱، ص۱۸۳)۔ واللہ اعلم بالصواب