(+92) 0317 1118263

کاروبار

پرپال کمپنی میں انوسٹ کرنے کاحکم

پرپال کمپنی میں انوسٹ کرنے کاحکم فتوی نمبر: 41372

الاستفتاء

پرپال کمپنی کا مدلل و مفصل حکم کیا ہے؟
نوٹ : کمپنی کےممبرا ن سے فون پررابطہ کرنے پرمزید یہ تفصیل معلوم ہوئی کہ انویسٹمنٹ کرنے والے ممبر کو بھی ایڈز دیکھنے پرہی منافع ملتاہے اور ہر ممبر کامعاہدہ پندرہ مہینے پر مشتمل ہوتاہے ،جس میں روزانہ صرف بیس منٹ کا ایک اشتہار دیکھنے کوملتاہے ،اور جس دن کوئی ممبر ملنے والااشتہار نہ دیکھ سکے اس کے منافع میں اس دن کے اعتبار سے کمی ہوجاتی ہے ، پندرہ ماہ کے دوران ملنے والی رقم میں منافع کے ساتھ اصل رقم بھی شامل ہوتی ہے،نیز اگر کوئی ممبر معاہدہ ختم کرناچاہے تواس کولگائی رقم واپس نہیں ملتی ۔

الجواب حامدا و مصلیا

کمپنی کے تعارف طریقہ کاروبار کی تفصیل اور سوال کے ساتھ لکھے گئے نوٹ کابغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتاہے کہ کمپنی کااصل کاروبار جس کے لیے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے ،ایڈز دیکھ کر کمائی کرناہے(چاہے ممبرشپ انویسٹمنٹ میں ہو یانیٹ ورک مارکیٹینگ میں ہو)جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں :
(1)ایڈز دیکھناکوئی ایساعمل نہیں جسے اجارہ کامعقود علیہ قرار دیاجاسکے ،اورایڈز دیکھنے والے ممبرکواس پراجرت کامستحق ٹھہرایاجا سکے ۔
(2)بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پربھی مشتمل ہوتے ہیں ۔
(3)مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کوبڑھاکردکھایا جاتاہے جوکہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتاہے
(4)مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اس وقت اوربھی بڑھ جاتی ہے ،جب کہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹینگ بھی پائی جاتی ہو ۔
نیز نوٹ میں جوبات لکھی گئی ہے پندرہ ماہ کے دوران ملنے والی رقم میں منافع کےساتھ اصل رقم بھی شامل ہوتی ہے ،درست معلو م نہیں ہوتی ،بلکہ ملنے والی رقم در حقیقت اشتہارات دیکھنے کی اجرت ہوتی ہے ،جس کی واضح دلیل یہ کہ اشتہارات نہ دیکھنے کی صورت میں منافع میں کمی ہوجاتی ہے ، لہذا خود اس کمپنی کاممبر بننا اور کسی دوسرے کو اس کاممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔


کما فی الدر المختار: هِيَ) لُغَةً: اسْمٌ لِلْأُجْرَةِ وَهُوَ مَا يُسْتَحَقُّ عَلَى عَمَلِ الْخَيْرِ وَلِذَا يُدْعَى بِهِ، يُقَالُ أَعْظَمُ اللَّهُ أَجْرَكَ. وَشَرْعًا (تَمْلِيكُ نَفْعٍ) مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ (بِعِوَضٍ) حَتَّى لَوْ اسْتَأْجَرَ ثِيَابًا أَوْ أَوَانِي لِيَتَجَمَّلَ بِهَا أَوْ دَابَّةً لِيَجْنُبَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ دَارًا لَا لِيَسْكُنَهَا أَوْ عَبْدًا أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ لَا لِيَسْتَعْمِلَهُ بَلْ لِيَظُنَّ النَّاسُ أَنَّهُ لَهُ فَالْإِجَارَةُ فَاسِدَةٌ فِي الْكُلِّ، وَلَا أَجْرَ لَهُ لِأَنَّهَا مَنْفَعَةٌ غَيْرُ مَقْصُودَةٍ مِنْ الْعَيْنِ۔ بَزَّازِيَّةٌ۔ وَسَيَجِيءُ(6/4)۔


وفی الشامیۃ: (قَوْلُهُ مَقْصُودٌ مِنْ الْعَيْنِ) أَيْ فِي الشَّرْعِ وَنَظَرِ الْعُقَلَاءِ، بِخِلَافِ مَا سَيَذْكُرُهُ فَإِنَّهُ وَإِنْ كَانَ مَقْصُودًا لِلْمُسْتَأْجِرِ لَكِنَّهُ لَا نَفْعَ فِيهِ وَلَيْسَ مِنْ الْمَقَاصِدِ الشَّرْعِيَّةِ، وَشَمِلَ مَا يُقْصَدُ وَلَوْ لِغَيْرِهِ لِمَا سَيَأْتِي عَنْ الْبَحْرِ مِنْ جَوَازِ اسْتِئْجَارِ الْأَرْضِ مَقِيلًا وَمَرَاحًا، فَإِنَّ مَقْصُودَهُ الِاسْتِئْجَارُ لِلزِّرَاعَةِ مَثَلًا، وَيَذْكُرُ ذَلِكَ حِيلَةً لِلُزُومِهَا إذَا لَمْ يُمْكِنْ زَرْعُهَا۔ تَأَمَّلْ.(6/4)۔


وفی بدائع الصنائع: (وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ، لَا مُعَيَّنًا، فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً، أَوْ مِائَةً، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً؛ لِأَنَّ الْعَقْدَ يَقْتَضِي تَحَقُّقَ الشَّرِكَةِ فِي الرِّبْحِ وَالتَّعْيِينُ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ لِجَوَازِ أَنْ لَا يَحْصُلَ مِنْ الرِّبْحِ إلَّا الْقَدْرُ الْمُعَيَّنُ لِأَحَدِهِمَا، فَلَا يَتَحَقَّقُ الشَّرِكَةُ فِي الرِّبْحِ.(6/59)واللہ اعلم بالصواب