(+92) 0317 1118263

نجاسات اور پاکی

استنجاءخانے یا غسل خانے کےجوتوں سے عام فرش گندہ ہونا

استنجاءخانے یا غسل خانے کےجوتوں سے عام فرش گندہ ہونا فتوی نمبر: 41362

الاستفتاء

اس پہلے میں نے ایک مسئلہ دریافت کیا تھا لیکن میں اپنے سوال میں تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کے ایسے پختہ فرش پر جہاں پر ایسے جوتوں کا بھی استعمال ہو جو استنجاء خانہ اور غسل خانہ میں بھی استعمال ہوتے ہوں تو اس فرش پر پاوں کو گیلا کر کے ننگے پاوں پھر نا کیسا ہے

الجواب حامدا و مصلیا

استنجاء خانہ اورغسل خانہ میں استعمال ہونے والے جوتوں پر اگر یقینی طور پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو توفرش پر ان جوتوں کے استعمال سے فرش ناپاک نہ ہوگا لہذا ایسے فرش پر گیلے پاؤں چلنے پھیرنے کیوجہ سے پاؤں ناپاک نہ ہونگے البتہ احتیاط اسی میں ھیکہ ایسے فرش پرننگے پاؤں چلنے پھیرنے کے بعد نماز سے قبل پاؤں کودھو لیا جائے۔


کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا. ولو وقعت في نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس وإلا لا. لف طاهر في نجس مبتل بماءإن بحيث لو عصر قطر تنجس وإلا لا. ولو لف في مبتل بنحو بول، إن ظهر نداوته أو أثره تنجس وإلا لااھ (1/ 345)


وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (قوله: مشى في حمام ونحوه) أي: كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة فتح. وفيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة؛ لأنه المانع إلا أن يحتاط،اھ (1/ 350)


وفي الفتاوى الهندية ولو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس وإن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت تنجست ولا تعتبر النداوة هو المختاراھ (1/ 47)واللہ اعلم